Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اسباقِ سیرت

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر جب حقیقت کی تلاش کا جذبہ ابھرا تو آپ کا یہ حال ہوا کہ انسانی بستیوں سے نکل کر آپ پہاڑی علاقوں میں چلے جاتے۔ یہ گویا ایک صالح روح کا انسانی سرگرمیوں کے ماحول کو چھوڑ کر خدائی سرگرمیوں (فطرت) کے ماحول میں جانا تھا۔ صحرائی جغرافیہ خصوصیت سے اس کام کے لیے مناسب ترین جگہ ہوتی ہے۔ رومانیہ کے مستشرق کونستان ورژیل جارج (1992-1916ء) نے اسلام کے جغرافیہ کو سمجھنے کے لیے خود عرب کا سفر کیا تھا۔ وہ اپنی کتاب’’پیغمبر اسلام‘‘ میں لکھتے ہیں: جب تک کوئی انسان عرب اور مشرق کے جنگلوں میں ایک مدت نہ گزارے، وہ اس کو سمجھ ہی نہیں سکتا کہ صحرا کی وسعت اور اس کا سکوت کس طرح فکر انسانی کی وسعت کا سبب ہوتا ہے اور خیال کو تقویت دیتا ہے۔ عرب کی گھاس اور یورپ کی گھاس میں بہت فرق ہے۔ گرم جنگلوں میں کوئی گھاس ایسی نہیں جس میں خوشبو نہ ہو۔ یہاں تک کہ عرب جنگلوں کے ببول بھی خوشبودار ہیں۔ 30 لاکھ کلومیٹر والا مسطح جنگل اور گرم عربستان ایسی جگہ ہے جہاں انسان گو یا بلا واسطہ خدا تک پہنچ جاتا ہے۔ دوسرے ملک ایسی عمارت کے مثل ہیں جن کے درمیان بڑی بڑی دیواریں حائل ہیں۔ مگر عرب کے جنگلوں میں ایسا کوئی مانع نہیں جو دیدارِ حق کو روک سکے۔ لوگ جس طرف بھی نظر ڈالتے ہیں، لامحدود جنگل اور بے کنار آسمان انہیں دکھائی دیتا ہے۔ یہاں خدا اور فرشتوں کی شناسائی کے لیے کوئی چیز مانع نہیں۔ -2- زمانہ جاہلیت میں عرب کے کچھ لوگوں نے ایک باہمی معاہدہ کیا تھا جس کو حلف الفضول کہا جاتا ہے۔ اس معاہدہ کا مقصد لوٹ کھسوٹ اور ظلم کو روکنا تھا۔ اس معاہدہ میں شریک ہونے والوں کے نام تھے فضل بن فضالہ، فضل بن وداعه اور فضیل بن حارث۔ چنانچہ انہیں کے نام پر اس معاہدہ کا نام حلف الفضول (فضل والوں کا معاہدہ) پڑ گیا۔ یہ معاہدہ ابتدائی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page