اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
بانیوں تک زندہ رہا۔ ان کے مرنے کے بعد صرف ان کا نام رہ گیا۔ زبیر بن عبد المطلب نے اپنے بعض اشعار میں اس معاہدہ کا ذکر اس طرح کیا ہے : اِنَّ الْفُضُولَ تَحَالَفُوْا، وَتَعَاقَدُوا اَلَّا يُقِيْمَ بِبَطْنِ مَكَّةَ ظَالِمٌ أَمْرٌ عَلَيْهِ تَعَاهَدُوا، وَتَوَاثَقُوا فَالْجَارُ وَالْمُعْتَرُّ فِيْهِمْ سَالِمُ فضل نامی افراد نے باہم معاہدہ کیا اور عہد باندھا کہ مکہ میں کوئی ظالم نہ رہنے پائے گا انہوں نے اس بات پر باہم عہد باندھا اور اقرار کیا۔ پس مکہ میں پڑوسی اور ضرورت سے آنے والا سب محفوظ ہیں (الروض الانف للسہیلی ، جلد 2، صفحہ 47 )۔ واقعہ فیل کے بعد عرب میں ایک باہمی جنگ ہوئی جس کو حرب الفجار (حرام مہینوں میں کی جانے والی جنگ ) کہا جاتا ہے۔ اس جنگ کے بعد دوبارہ عرب میں بدامنی بڑھ گئی۔ اسی زمانہ میں یہ واقعہ ہوا کہ یمن کے قبیلہ زبید کا ایک شخص کچھ تجارتی سامان لے کر مکہ آیا۔ قریش کے ایک سردار عاص بن وائل سہمی نے اس کا سامان خریدا مگر اس کی مطلوبہ قیمت نہیں ادا کی۔ مذکورہ یمنی تاجر نے مکہ والوں سے فریاد کی۔ اس نے کچھ اشعار کہے اور ان کے ذریعہ عام لوگوں تک اپنی شکایت پہنچائی ۔ اس واقعہ نے مکہ کے کچھ درد مند لوگوں کو چوکسنا کر دیا۔ زبیر بن عبد المطلب کی تحریک پر بنو ہاشم اور بنو تمیم کے لوگ عبد اللہ بن جدعان کے مکان پر جمع ہوئے تا کہ صورت حال کے بارے میں مشورہ کریں ۔ انہوں نے حلف الفضول کی از سر نو تجدید کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے باہمی عہد کے ذریعہ اپنے کو پابند کیا کہ وہ مظلوم کا ساتھ دیں گے، اور ظالم سے اس کا حق دلا کر رہیں گے (فَتَعَاقَدُوا وَتَعَاهَدُوُا بِاللّٰہِ الْقَائِلِ: لَنَكُوْنَنَّ مَعَ الْمَظْلُوْمِ حَتَّى يُؤَدَّى اِلَيْهِ حَقُّهُ) الطبقات الکبریٰ، جلد 1، صفحہ 103۔ اس عہد کے بعد وہ لوگ عاص بن وائل کے پاس گئے۔ اس سے مذکورہ شخص کا سامان چھینا اور اس کو اس کے مالک کے حوالے کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader