Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اسباقِ سیرت

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ معاہدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی عمر میں ہوا تھا۔ وہ اگرچہ عربوں کا ایک معاہدہ تھا مگر آپ نے اس کی تصدیق فرمائی۔ اس کی بابت آپ کے یہ الفاظ سیرت کی کتابوں میں نقل کیے گئے ہیں: لَقَدْ شَهِدْتُ فِي دَارِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جُدْعَانَ حِلْفًا لَوْ دُعِيْتُ بِهِ فِي الإِسْلَامِ لَأَجَبْتُ، تَحَالَفُوا أَنْ يَُرُدُّوا الْفُضُولَ عَلَى أَهْلِهَا وَأَلَّا يَعِزَّ ظَالِمٌ مَظْلُومًا (السیرة النبویة لابن کثیر، جلد 1، صفحہ 258)۔ یعنی، میں عبد اللہ بن جدعان کے گھر میں ہونے والے معاہدہ میں شریک تھا۔ اگر اسلام کے بعد بھی مجھے اس میں بلایا جاتا تو میں ضرور اس میں شریک ہوتا۔ انہوں نے اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ حقدار تک اس کا حق پہنچائیں گے اور یہ کہ کوئی ظالم کسی مظلوم پر غالب نہ آ سکے گا۔ ابن ہشام نے اس ذیل میں بعض واقعات نقل کیے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حلف الفضول کا ذہنی اثر بعد کے عربوں میں بھی باقی تھا۔ ولید بن عقبہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان کے بھتیجے تھے۔ حضرت معاویہ نے ان کو مدینہ کا امیر بنایا تھا۔ اسی زمانہ میں ولید بن عقبہ اور حضرت حسین بن علی کے درمیان ایک جائیداد کا جھگڑا ہوا جو کہ ذوالمرہ نامی گاؤں میں تھی۔ ولید نے طاقت کے زور پر اس پر قبضہ کرنا چاہا۔ حضرت حسین نے فرمایا: أُحْلِفُ بِاللَّهِ لَتُنْصِفَنِّي مِنْ حَقِّي أَوْ لَآخُذَنَّ سَيْفِي، ثُمَّ لَأَقُومَنَّ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَأَدْعُوَنَّ بِحِلْفِ الْفُضُولِ۔ یعنی، میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تم کو میرے حق کے معاملہ میں انصاف کرنا ہوگا، ورنہ میں اپنی تلوار لوں گا اور مسجد نبوی میں کھڑا ہو جاؤں گا اور حلف الفضول کے نام پر پکاروں گا۔ عبد اللہ بن زبیر جو اس وقت وہاں موجود تھے انہوں نے بھی یہی بات کہی۔ انہوں نے کہا: میں بھی خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر حسین اس کے لیے پکاریں گے تو میں اپنی تلوار لوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page