Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اسباقِ سیرت

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

گا اور ان کے ساتھ کھڑا ہو جاؤں گا یہاں تک کہ ان کا حق ان کو دیا جائے یا ہم دونوں ایک ساتھ قتل ہو جائیں۔ یہ بات مسور بن مخرمہ زہری کو پہنچی تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا۔ اسی طرح یہ بات عبد الرحمن بن عثمان تیمی کو پہنچی تو انہوں نے بھی ایسا ہی کہا۔ جب ولید بن عقبہ کو اس کا علم ہوا تو اس نے حضرت حسین کو ان کا حق ادا کر دیا (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 135)۔ اوپر کی تفصیلات سے معلوم ہوا کہ بد امنی اور فساد کے مسئلہ کے حل کے لیے اسلام کا مصدقہ طریقہ حلف الفضول کا طریقہ ہے۔ یعنی معاشرہ کے ذمہ دار افراد کا خدا کے سامنے عہد باندھ کر اپنے آپ کو اس کا پابند کرنا کہ جب بھی کوئی ایسا واقعہ ہوگا کہ ایک شخص دوسرے شخص پر ظلم کر رہا ہو تو وہ فوراً دوڑ کر موقع پر پہنچیں گے۔ مظلوم کے مسئلہ کو اپنا مسئلہ بنا ئیں گے۔ وہ اپنی ساری قوت اور ساری کوشش صرف کر کے ظالم کو مجبور کریں گے کہ وہ اپنے ظلم سے باز آئے اور مظلوم کو اس کا حق ادا کرے۔ آج ہر بستی میں یہ صورت حال ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو ستاتا ہے۔ کوئی کسی کو ذلیل کرنے پر تلا ہوا ہے، کوئی کسی کے اوپر جھوٹا مقدمہ قائم کیے ہوئے ہے۔ کوئی کسی کا مال ہڑپ کر لینا چاہتا ہے۔ غرض جس کو ذرا بھی کوئی طاقت یا موقع ہاتھ آتا ہے تو وہ اس کوشش میں لگ جاتا ہے کہ کمزور کو دبائے اور ظالمانہ طریقہ پر دوسرے کے حقوق کو غصب کرے۔ اس قسم کے واقعات ہر بستی میں اور ہر محلہ میں ہو رہے ہیں۔ مگر تمام لوگ غیر جانب دار بنے رہتے ہیں۔ حتی کہ ذمہ دار افراد بھی ان معاملات میں کوئی دخل نہیں دیتے۔ کسی کو اگر اصلاح امت یا خدمت قوم کا شوق ہوتا ہے تو وہ جلسوں اور تقریروں کا مشغلہ شروع کر دیتا ہے۔ حالانکہ اصل کام مظلوموں کی عملی دادرسی ہے نہ کہ مظلوموں کے نام پر جلسہ کرنا اور اس میں الفاظ کے دریا بہانا۔ مظلوموں کے نام پر جلسہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص زخمی ہو جائے اور آپ اس کو اسپتال لے جانے کے بجائے ایک شان دار زخمی کانفرنس منعقد کرنے کے لیے دوڑ پڑیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page