Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اسباقِ سیرت

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

قبائلی نظام میں آدمی قبیلہ کی حمایت کے تحت زندگی گزارتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے ابتدائی زمانہ میں اپنے چچا ابو طالب کی حمایت میں رہے جو قبیلہ بنو ہاشم کے سردار تھے۔ نبوت کے دسویں سال ابو طالب کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد قبائلی روایات کے مطابق ابو لہب قبیلہ بنو ہاشم کا سردار مقرر ہوا۔ اس نے آپ کی حمایت سے انکار کر دیا۔ اب آپ نے ارادہ کیا کہ کسی دوسرے قبیلہ کی حمایت حاصل کر کے اپنا دعوتی کام جاری رکھیں ۔ اس غرض کے تحت آپ نے طائف کا سفر فرمایا۔ طائف مکہ کے جنوب مشرق میں 65 میل کے فاصلہ پر ایک سرسبز و شاداب بستی تھی۔ وہاں آپ کے بعض رشتہ دار تھے۔ چنانچہ آپ اپنے خادم زید بن حارثہ کو لے کر طائف پہنچے۔ اس وقت وہاں کی آبادی میں تین ممتاز سردار تھے۔ عبد یا لیل، مسعود اور حبیب۔ آپ ان تینوں سے ملے۔ مگر ہر ایک نے آپ کا ساتھ دینے یا آپ کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا: خدا نے اگر تم کو رسول بنایا ہو تو میں کعبہ کا پردہ پھاڑ ڈالوں۔ دوسرے نے کہا: خدا کو کیا تمہارے سوا کوئی نہ ملا تھا جس کو وہ رسول بنا کر بھیجتا۔ تیسرے نے کہا: خدا کی قسم میں تم سے بات نہیں کروں گا۔ اگر تم رسول ہو تو تمہارا جواب دینا گستاخی ہے اور اگر تم جھوٹے ہو تو میرے لیے مناسب نہیں کہ میں تم سے بات کروں۔ (فَقَالَ لَهُ أَحَدُهُمۡ: هُوَ يُمَرِّطُ ثِيَابَ الْكَعْبَةِ إِنْ كَانَ اللَّهُ أَرْسَلَكَ، وَقَالَ الآخَرُ: أَمَا وَجَدَ اللَّهُ أَحَدًا يُرْسِلُهُ غَيْرَكَ! وَقَالَ الثَّالِثُ: وَاللَّهِ لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا، لَئِنْ كُنْتَ رَسُولًا مِنْ اللَّهِ كَمَا تَقُولُ، لَأَنْتَ أَعْظَمُ خَطَرًا مِنْ أَنْ أُرُدَّ عَلَيْكَ الْكَلَامَ، وَلَئِنْ كُنْتَ تَكْذِبُ عَلَى اللَّهِ، مَا يَنْبَغِي لِي أَنْ أُكَلِّمَكَ ) سيرة ابن هشام جلد 2 صفحه 29۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہو کر واپس ہوئے۔ مگر ان لوگوں نے پھر بھی آپ کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page