اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
نہ بخشا۔ انہوں نے بستی کے لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا۔ وہ گالیوں اور پتھروں سے آپ کا پیچھا کرتے رہے۔ آپ کے خادم زید بن حارثہ نے اپنی چادر سے آپ کو آڑ میں لینے کی کوشش کی۔ مگر وہ آپ کو بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اور آپ کا جسم لہولہان ہو گیا۔ بستی سے کچھ دور جا کر عتبہ اور شیبہ دو بھائیوں کا انگور کا باغ تھا۔ یہاں پہنچتے پہنچتے شام ہوگئی اور آپ نے اس باغ میں پناہ لی۔ آپ زخموں سے چور تھے اور اللہ سے دعا کر رہے تھے کہ خدا یا میری مدد فرما مجھے تنہا نہ چھوڑ دے۔ عتبہ اور شیبہ دونوں مشرک تھے۔ مگر جب انہوں نے آپ کا حال دیکھا تو ان کو آپ کے اوپر رحم آگیا۔ انہوں نے اپنے نصرانی غلام کو بلایا جس کا نام عداس تھا۔ انہوں نے عداس سے کہا کہ ان انگوروں کے کچھ خوشے لو اور ان کو ایک برتن میں رکھ کر اس آدمی کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ اس میں سے کھائے۔ عداس نے ایسا ہی کیا۔ وہ انگور لے کر آیا اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ یہ کھاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس کو اپنے ہاتھ میں لیا تو بسم اللہ کہا اور پھر کھایا۔ عداس نے آپ کے چہرہ کی طرف دیکھا اور کہا: خدا کی قسم یہ جو آپ نے کہا، اس ملک کے لوگ ایسا نہیں کہتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اے عداس، تم کس ملک کے رہنے والے ہو اور تمہارا دین کیا ہے۔ عداس نے کہا: میں نصرانی ہوں اور میں نینوا (عراق) کا رہنے والا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: مرد صالح یونس بن متی کے شہر کا۔ عداس نے کہا: آپ کو کیسے معلوم کہ یونس بن متی کون تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: وہ میرے بھائی ہیں۔ وہ نبی تھے اور میں بھی نبی ہوں (ذَاكَ أَخِي، كَانَ نَبِيّاً وَ أَنَا نَبِيّ) یہ سن کر عداس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک پڑا اور آپ کے سر اور ہاتھ اور پاؤں کو چومنے لگا۔ عتبہ اور شیبہ اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ ایک نے دوسرے سے کہا: دیکھو اس شخص نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader