Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اسباقِ سیرت

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

تمہارے غلام کو خراب کر دیا۔ عداس جب لوٹ کر آیا تو انہوں نے اس سے کہا: عداس تمہارا برا ہو ۔ تم کو کیا ہوا کہ تم اس کے سر اور ہاتھ اور پاؤں کو چومنے لگے۔ عداس نے کہا اے میرے آقا، زمین پر اس سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ اس آدمی نے مجھ کو ایسی بات بتائی جس کو صرف ایک نبی ہی جان سکتا ہے۔ دونوں نے کہا: اے عداس، تمہارا برا ہو۔ وہ تم کو تمہارے دین سے پھیر نہ دے۔ کیونکہ تیرا دین اس کے دین سے بہتر ہے: وَيْحَكَ يَا عَدَّاسُ، لَا يَصْرِفَنَّكَ عَنْ دِينِكَ، فَإِنَّ دِينَكَ خَيْرٌ مِنْ دِينِهِ (سیرۃ ابن ہشام جلد 1 صفحہ 421)۔ خدا کے رسول کو ایک ہی سفر میں مختلف لوگوں سے تین الگ الگ قسم کے سلوک کا تجربہ ہوا: ایک نے آپ کے اوپر پتھر پھینکے۔ دوسرے نے آپ کی ضیافت کی۔ تیسرے نے آپ کی نبوت کا اقرار کر لیا۔ اس واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے۔ یہ سبق کہ اس دنیا میں امکانات کی کوئی حد نہیں۔ یہاں اگر چٹیل میدان ہیں تو وہیں سایہ دار درخت بھی کھڑے ہوئے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں کچھ لوگوں سے اگر برے سلوک کا تجربہ ہو تو آدمی کو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ آدمی اگر خود سچائی پر قائم رہے۔ وہ اپنے دل کو منفی جذبات سے بچائے تو ضرور اس کو خدا کی مدد حاصل ہوگی۔ ایک قسم کے لوگ اگر اس کا ساتھ نہ دیں گے تو کچھ دوسرے لوگوں کے دل اس کے لیے نرم کر دیے جائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں دعوت کا آغاز کیا تو آپ کی شدید ترین مخالفت کی گئی۔ آپ کو ہر قسم کی تکلیفیں پہنچائی گئیں۔ آپ کو دبانے اور ناکام کرنے کے لیے وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page