Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اسباقِ سیرت

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگ جو کچھ کر سکتے تھے وہ سب انہوں نے کیا۔ مگر آپ کا مشن بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ مدینہ کے لوگوں تک اسلام کی آواز پہنچی۔ وہاں کثرت سے لوگ مسلمان ہو گئے۔ آپ کے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی مکہ والے بہت ستاتے تھے۔ آپ نے مکہ کے مسلمانوں سے کہا مدینہ میں اللہ نے تمہارے لیے کچھ بھائی اور مددگار مہیا کر دیے ہیں، تم لوگ وہاں چلے جاؤ۔ لوگ ایک ایک کر کے جانے لگے۔ قریش کو اس منصوبہ کا علم ہوا تو انہوں نے کوشش کی کہ لوگوں کو جانے سے روکیں۔ کچھ لوگوں کو مارا، کچھ لوگوں کو پکڑ کر گھروں میں بند کر دیا۔ تاہم بیشتر لوگ کسی نہ کسی طرح مکہ سے مدینہ پہنچ گئے۔ آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری تھی۔ قریش کو اندازہ ہو گیا کہ تمام مسلمانوں کو مدینہ بھیجنے کے بعد اب پیغمبر اسلام خود بھی مدینہ چلے جائیں گے۔ چنانچہ بنو ہاشم کے سوا تمام قبائل قریش کے سردار دار الندوہ (قصي بن كلاب کا مکان) میں جمع ہوئے۔ مشورہ میں مختلف تجویز سامنے آئیں۔ بالآخر اس رائے پر اتفاق ہوا کہ ہر قبیلہ کا ایک ایک آدمی تلوار لے اور بیک وقت حملہ آور ہو کر محمد کو قتل کر دے۔ اس طرح محمد کا خون تمام قبائل میں تقسیم ہو جائے گا۔ بنو ہاشم تمام قبائل کا مقابلہ نہ کر سکیں گے اور قصاص کے بجائے دیت پر راضی ہو جائیں گے۔ اس کے بعد اگلی رات کو تمام سرداروں نے آپ کا مکان گھیر لیا، تا کہ صبح کو جب آپ گھر سے باہر نکلیں تو اچانک حملہ کر کے آپ کا خاتمہ کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان تمام حالات کی خبر تھی اور آپ بھی خاموشی کے ساتھ اپنی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے۔ چنانچہ اپنے طے شدہ منصوبہ کے مطابق آپ اسی رات کو ابو بکر صدیق کے ساتھ مکہ سے نکل گئے۔ آپ مکہ سے چل کر چار میل کے فاصلہ پر جبل ثور کے ایک غار میں چھپ کر بیٹھ گئے۔ آپ کو اندازہ تھا کہ قریش کو جب معلوم ہو گا کہ آپ مکہ سے چلے گئے ہیں تو وہ آپ کی تلاش میں ادھر اُدھر نکلیں گے۔ اس لیے آپ چاہتے تھے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page