اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ چند دن غار ثور میں گزاریں اور جب قریش کی تلاش رکے تو مدینہ کا سفر کریں۔ اب قریش کے سوار چاروں طرف آپ کی تلاش میں دوڑنے لگے۔ یہاں تک کہ ایک دستہ غار ثور تک بھی پہنچ گیا۔ یہ لوگ تلواریں لیے ہوئے غار ثور کے پاس اس طرح کھڑے تھے کہ ان کے پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کو دکھائی دے رہے تھے۔ یہ انتہائی خطرناک لمحہ تھا۔ ابو بکر صدیق نے کہا: اے خدا کے رسول، دشمن تو یہاں تک پہنچ گیا۔ آپ نے کہا: لا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا (9:40)۔ یعنی، غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پھر اطمینان کے ساتھ فرمایا: اے ابو بکر، ان دو کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جن کا تیسرا اللہ ہو: مَا ظَنُّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4653)۔ —5— رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں سے ایک غزوہ ذات الرقاع ہے جو 4 ھ میں پیش آیا۔ اس غزوہ کے واقعات میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے صحیح بخاری (کتاب المغازی) میں نقل ہوا ہے۔ سیرت کی کتابوں میں بھی یہ واقعہ معمولی فرق کے ساتھ آیا ہے۔ بنو غطفان کا ایک شخص جس کا نام غورث ابن الحارث تھا، اس نے اپنی قوم سے کہا: کیا میں تمہارے لیے محمد کو قتل کردوں (الا أقتل لكم محمدا)۔ انہوں نے کہا ضرور، مگر تم کیسے ان کو قتل کرو گے۔ غورث نے کہا: میں ان کو غفلت کی حالت میں پکڑوں گا اور قتل کردوں گا۔ اس کے بعد غورث روانہ ہوا۔ وہ ایک مقام پر پہنچا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔ اس مقام پر درخت اور جھاڑیاں تھیں۔ لوگ جھاڑیوں کے سایہ میں لیٹے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک درخت کے نیچے آرام کر رہے تھے اور اپنی تلوار آپ نے درخت کی شاخ سے لٹکادی تھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader