اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
اتنے میں مذکورہ اعرابی (غورث) آپ کو تلاش کرتا ہوا وہاں پہنچا۔ اس نے جب دیکھا کہ آپ تنہا لیٹے ہوئے ہیں اور آپ کی تلوار بھی آپ سے الگ درخت کے اوپر لٹک رہی ہے تو اس نے بڑھ کر آپ کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی۔ پھر تلوار کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا اور کہا: آپ کو کون مجھ سے بچائے گا (مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي)۔ آپ نے فرمایا: اللہ عز وجل۔ اعرابی نے تلوار کو ہلاتے ہوئے کہا: اپنی اس تلوار کی طرف دیکھو جو اس وقت میرے ہاتھ میں ہے۔ کیا تم کو اس سے ڈر نہیں معلوم ہوتا۔ آپ نے فرمایا نہیں ۔ میں تم سے کیوں ڈروں ۔ جب کہ مجھے یقین ہے کہ اللہ مجھے بچائے گا (يَمْنَعُنِيْ اللَّهُ مِنْكَ) آپ کے پر اعتماد جواب کے بعد اعرابی کو اقدام کی ہمت نہ ہوئی ۔ اس نے تلوار میان میں ڈال کر آپ کو واپس کردی (فَشَامَ الْأَعْرَابِيُّ السَّيْفَ)۔ اب آپ نے اعرابی کو بٹھایا اور لوگوں کو آواز دی۔ لوگ آئے تو دیکھا کہ ایک اعرابی آپ کے پاس بیٹھا ہوا ہے۔ آپ نے پورا قصہ بتایا ۔ اعرابی سہما ہوا تھا کہ اب شاید تلوار میری گردن پر چلے گی ۔ مگر آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔ اس کو کوئی سزا نہ دی (سیرت ابن ہشام جلد 2 ، صفحہ 205، دلائل النبوۃ للبیھقی، جلد 3، صفحہ 374، السیرة النبویة لابن کثیر، جلد 3، صفحہ 64-162)۔ جو لوگ اللہ پر پورا بھروسہ کر لیں ان کو کسی دوسری چیز کا خوف نہیں رہتا۔ یہ عقیدہ کہ اللہ ایک زندہ اور طاقت ور ہستی کی حیثیت سے ہر وقت موجود ہے، ان کو ہر دوسری طاقت کے مقابلہ میں نڈر بنا دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دشمن کے مقابلہ میں کسی شخص کی سب سے بڑی طاقت بے خوفی ہے۔ دشمن کو اگر یقین ہو جائے کہ اس کا حریف اس سے نہیں ڈرتا تو وہ خود اس سے ڈرنے لگتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں سے ایک غزوہ خندق ہے جو شوال 5ھ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader