Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اسباقِ سیرت

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

پیش آیا۔ اس کو غزوہ احزاب بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی فوجوں کا غزوہ۔ اس جنگ میں عرب کے مختلف قبیلوں نے مل کر مدینہ پر حملہ کر دیا تھا۔ قبائل قریش، قبائل غطفان اور قبائل یہود کے دس ہزار سے زیادہ افراد اس میں شریک تھے۔ یہ حملہ کتنا شدید تھا، اس کا اندازہ قرآن کے ان الفاظ سے ہوتا ہے:” جب وہ اوپر سے اور نیچے سے تمھارے اوپر چڑھ آئے۔ اس وقت ڈر کی وجہ سے تمھاری آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آگئے اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ اس وقت اہلِ ایمان کی بڑی جانچ ہوئی اور وہ بالکل ہلا دیے گئے (ہُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا ) 33:11۔ مخالفین اسلام کا یہ لشکر پوری طرح ہتھیار بند تھا۔ اس میں ساڑھے چار ہزار اونٹ اور تین سو گھوڑے تھے۔ دشمنوں نے مدینہ کو اس طرح گھیرے میں لے لیا کہ باہر سے ہر قسم کی امداد آنا بند ہو گئی ۔ سامان رسد کی اتنی کمی ہوئی کہ لوگ فاقے کرنے لگے۔ اسی دوران کا واقعہ ہے کہ ایک صحابی نے بھوک کی شکایت کی اور کرتا اٹھا کر دکھایا کہ پیٹ پر ایک پتھر باندھ رکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں اپنا کرتا اٹھایا تو آپ کے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معلوم ہوا کہ مختلف قبائل ایک ساتھ ہو کر مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں تو آپ نے صحابہ سے مشورہ کیا۔ سلمان فارسی کی رائے کے مطابق طے ہوا کہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کیا جائے۔ اس وقت مدینہ تین طرف سے پہاڑوں، گھنے درختوں اور مکانات کی دیواروں سے گھرا ہوا تھا۔ شمال مغربی حصہ خالی تھا۔ طے ہوا کہ اس کھلے ہوئے حصہ میں دو پہاڑوں کے درمیان خندق کھودی جائے۔ چنانچہ چھ دن کی لگا تار محنت سے ایک خندق کھود کر تیار کی گئی۔ یہ خندق دشمنوں کی یلغار کو روکنے کے لیے اتنی کارآمد ثابت ہوئی کہ اس غزوہ کا نام غزوہ خندق پڑ گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page