Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اسباقِ سیرت

Urdu book, p. 77

By Maulana Wahiduddin Khan

سیرت کی کتابوں میں خندق کی تفصیلات جب ہم پڑھتے ہیں تو ایک سوال سامنے آتا ہے ۔ ”ایک معمولی خندق دشمنوں کی فوج کورو کرنے کا سبب کیسے بن گئی“ مذکورہ تفصیلات کے مطابق یہ خندق تقریباً 6 کلومیٹر لمبی تھی۔ اور اس کی گہرائی اور چوڑائی ایک معمولی نہر سے زیادہ نہ تھی۔ وہ تقریباً ڈھائی میٹر گہری اور تقریباً تین میٹر چوڑی تھی۔ اس قسم کی ایک خندق ایک مسلح فوج کے لیے ایک نالی سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔ وہ لوگ بآسانی اس کو عبور کر کے مدینہ میں داخل ہو سکتے تھے۔ واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ اس خندق کے باوجود مسلمان دشمن فوج کی تیروں کی زد میں تھے۔ جیسا کہ حضرت سعد بن معاذ کو تیر لگنے سے ظاہر ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ تاریخ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم کچھ لوگ خندق کے دوسری طرف پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ عمرو بن عبد ود اور اس کے کچھ ساتھیوں نے گھوڑے پر سوار ہو کر خندق کا جائزہ لیا اور ایک جگہ خندق کو کچھ کم چوڑی دیکھ کر وہاں ٹہرے اور گھوڑا کدا کر خندق کے دوسری طرف پہنچ گئے۔ اس کے بعد عمرو بن عبدود کا مقابلہ حضرت علی بن ابی طالب سے ہوا جس میں عمرو بن عبدود مارا گیا۔ تقریباً ایک مہینہ کا یہ محاصرہ اپنے آخری دنوں میں آندھی اور طوفان کے بعد ختم ہو گیا۔ آندھی نے دشمن کے لشکر میں اتنی بدحواسی پیدا کی کہ ابوسفیان نے اونٹ کی رسی کھولے بغیر اونٹ پر بیٹھ کر اس کو ہانکنا شروع کر دیا۔ پھر بھی یہ سوال اپنی جگہ باقی ہے کہ 10 ہزار سے زیادہ تعداد کی مسلح فوجیں خندق کو عبور کر کے مدینہ میں کیوں نہ داخل ہوئیں جہاں تین ہزار آدمیوں کا بے سرو سامان قافلہ ان کی یلغار کو رو کنے کے لیے بالکل ناکافی تھا۔ اس سوال کا جواب خدا کی ایک سنت میں ملتا ہے۔ وہ سنت یہ کہ اللہ اہل ایمان کی طاقت ان کے دشمنوں کو بڑھا کر دکھاتا ہے تا کہ وہ مرعوب اور ہیبت زدہ ہو جائیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page