Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اسباقِ سیرت

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

(3:151)۔ یعنی، ہم منکروں کے دلوں میں تمہارا رعب ڈال دیں گے۔ کیوں کہ انہوں نے ایسی چیزوں کو خدا کا شریک ٹھہرایا جن کے حق میں خدا نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ اللہ تعالیٰ کی یہ نصرت رعب غزوہ خندق میں اور دوسرے مواقع پر ظاہر ہوئی۔ اس غزوہ میں مسلمانوں کی کھودی ہوئی نالی ان کے دشمنوں کو بہت بڑی خندق کی صورت میں دکھائی دی۔ تاہم مسلمانوں کو اپنے ہاتھوں کو تھکا کر ایک ’’نالی‘‘ کھودنا ضروری ہے۔ اگر وہ نالی کھودنے میں اپنے ہاتھوں کو نہ تھکائیں تو خدا ان کی نالی کو خندق بنا کر کس طرح دوسروں کو دکھائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت رعب جو قرن اول کے مسلمانوں کو کمال درجہ میں حاصل ہوئی وہ بعد کے دور کے مسلمانوں کو بھی مل سکتی ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ اس راستہ پر چلیں جس راستہ پر صحابہ خدا کے رسول کی رہنمائی میں چلے۔ کسی اور راستہ پر چلنے والے شیطان کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ پھر ان کو خدا کی نصرت کس طرح ملے گی۔ اللہ کی نصرت کا مستحق آدمی اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے کو حق کے ساتھ اس طرح شامل کرے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے اس کو وہ حق کے حوالے کردے، وہ اپنے سر کا تاج دوسرے کے سر پر رکھ دے جیسا کہ ہجرت کے بعد مدینہ کے لوگوں نے کیا۔ خدا کی نصرت کا مستحق بننے کی شرط ایک لفظ میں یہ ہے کہ ’’جب تم مدد کرو گے تو تمہاری مدد کی جائے گی‘‘۔ خدا ہماری مدد پر اس وقت آتا ہے جب کہ ہم دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کریں جو ہم خدا سے اپنے لیے چاہتے ہیں۔ ہماری ذات سے اگر دوسروں کو زحمت پہنچ رہی ہو تو خدا کے فرشتے ہمارے لیے خدا کی رحمت کا تحفہ لے کر نہیں آسکتے۔ اگر ہمارا یہ حال ہو کہ جس پر ہمارا قابو چلے اس کو ہم ناحق ستانے لگیں تو نا ممکن ہے کہ خدا وہاں ہماری مدد کرے جہاں کوئی دوسرا ہمارے اوپر قابو پا کر ہمیں ستانے لگتا ہے۔ ایک آدمی اپنی مصیبت میں ہم کو پکارے اور ہم استطاعت کے باوجود اس کی پکار پر دھیان نہ دیں تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page