اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 79
By Maulana Wahiduddin Khan
کبھی یہ ممکن نہیں کہ خدا اس وقت ہماری پکار کو سنے جب کہ کوئی طاقت ور ہمارے اوپر چڑھ آتا ہے اور ہم خدا کو پکارنے لگتے ہیں۔ دنیا کی زندگی میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی کے مقابلہ میں آدمی طاقت ور ہوتا ہے اور کسی کے مقابلہ میں کمزور۔ یہی صورت حال نصرت خداوندی کے معاملہ میں آدمی کے امتحان کا پرچہ ہے۔ کوئی شخص یا قوم اپنے طاقت وروں کے مقابلہ میں خدا کی جونصرت چاہے اس کا ثبوت اس کو اپنے کمزوروں کے معاملہ میں دینا پڑتا ہے اگر آدمی اپنے کمزوروں پر ظلم کرتا ہو تو اپنے طاقت وروں کے مقابلہ میں وہ خدا کی مدد کا مستحق نہیں بن سکتا ، خواہ وہ کتنا ہی خدا کو پکارے ، خواہ وہ کتنا ہی یوم دعا منائے۔ -7- بدر کی لڑائی (2ھ) سے کچھ پہلے 60 آدمیوں پر مشتمل قریش کا ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ ابو سفیان کی سرکردگی میں شام بھیجا گیا تھا۔ اس تجارتی قافلہ میں مکہ کے مردوں اور عورتوں نے اپنا تمام سرمایہ لگا دیا تھا۔ بدر کی لڑائی میں قریش کو مکمل شکست ہوئی۔ تا ہم ابو سفیان کو اس میں کامیابی ہوئی کہ وہ تجارتی قافلہ کو ساحلی راستہ سے چلا کر مکہ پہنچ جائیں۔ جنگ کے بعد سارا مکہ جوش انتقام سے بھرا ہوا تھا۔ قریش کے ذمہ دار افراد کا ایک اجتماع دار الندوہ میں ہوا۔ اس اجتماع میں متفقہ طور پر یہ طے پایا کہ تجارتی قافلہ کے شر کا صرف اپنا اصل سرمایہ لے لیں اور منافع کی رقم پوری کی پوری محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خلاف جنگ کی تیاری میں لگادی جائے۔ منافع کی یہ رقم پچاس ہزار دینار تھی جو اس وقت کے لحاظ سے بہت بڑی رقم تھی۔ اب قریش نے زبردست تیاری کی اور شوال 3ھ میں مکہ سے نکل کر مدینہ پر حملہ کے لیے روانہ ہوئے۔ اسی جنگ کا نام جنگ احد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی تو آپ نے صحابہ کو جمع کر کے مشورہ کیا۔ بڑے صحابہ میں سے اکثر کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader