Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اسباقِ سیرت

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر نوجوان طبقہ اس کا پر جوش مخالف تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اگر ہم یہاں ٹھہریں گے تو دشمن اس کو ہماری بزدلی اور کم زوری پر محمول کرے گا۔ اس لیے ہمیں باہر نکل کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ عبداللہ بن ابی کی رائے بھی وہی تھی جوا کا بر صحابہ کی تھی (سیرۃ ابن ہشام جلد 2 صفحہ 64)۔ جن لوگوں کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کیا جائے، اس کی بڑی وجہ مدینہ کا جغرافیہ تھا جو ایک قدرتی حصار کا کام کرتا تھا۔ مدینہ کا جائے وقوع ایسا تھا کہ اس کے جنوب میں کھجوروں کے گھنے باغ ات اس کثرت سے تھے کہ ادھر سے کوئی فوج بستی کے اوپر حملہ نہیں کر سکتی تھی۔ اسی طرح مشرق اور مغرب کے بڑے حصہ میں پہاڑیاں تھیں جو کسی فوجی پیش قدمی کے لیے قدرتی روک کا کام کر رہی تھیں۔ اس لیے کوئی دشمن صرف ایک ہی سمت سے مدینہ پر حملہ کر سکتا تھا۔ اس جغرافی پوزیشن نے مدینہ کو جنگی اعتبار سے کافی محفوظ شہر بنا دیا تھا۔ گویا مدینہ ایک قسم کا قلعہ تھا۔ شہر سے باہر نکل کر وہ چاروں طرف سے دشمن کی زد میں ہو جاتے تھے جب کہ مدینہ کے اندر صرف ایک طرف سے مقابلہ کا انتظام کرنا تھا۔ غزوہ احزاب میں مدینہ کے اسی جائے وقوع سے فائدہ اٹھایا گیا اور اس کی کھلی سمت میں (شمال مغربی رخ پر) خندق کھود کر پورے شہر کو محفوظ کر لیا گیا تھا۔ بڑے صحابہ کی اکثریت اور عبداللہ بن ابی کی رائے اگر چہ یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر مقابلہ کیا جائے۔ مگر آپ نے نوجوان طبقہ کی رائے کا لحاظ کیا اور ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ مدینہ سے نکل کر احد کی طرف روانہ ہوئے۔ عبداللہ بن ابی نے جب دیکھا کہ اس کی رائے نہیں مانی گئی جو بظاہر حالات معقول بھی تھی تو اس کو بہت دکھ ہوا۔ وہ مدینہ سے ساتھ نکل پڑا تھا مگر دل کے اندر غصہ باقی تھا۔ چنانچہ اسلامی لشکر بھی مدینہ اور احد کے درمیان تھا کہ عبداللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر مدینہ کی طرف واپس ہو گیا۔ عبداللہ بن ابی نے کہا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page