اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
لگے ۔ اسامہ نے کہا کہ یا تو آپ بھی سوار ہو جائیں ، یا میں سواری سے اتر جاؤں ۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا: نہ میں سوار ہوں گا اور نہ تم کو سواری سے اترنے کی ضرورت ہے ( يا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ ، إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَ إِمَّا أَنْ أَنْزِلَ، فَقَالَ: وَ اللهِ لَسْتُ بِنَازِلٍ وَ لَسْتُ بِرَاكِبٍ ) البدایة والنهایة، جلد 6 ، صفحہ 336 ۔ یہ خلیفہ اول کی طرف سے گویا لوگوں کے سوال کا عملی جواب تھا۔ خلیفہ کو اسامہ کی رکاب میں چلتے دیکھ کر سب کا انقباض ختم ہو گیا۔ اسامہ کی سرکردگی میں صحابہ کا لشکر رومی علاقہ کی طرف روانہ ہوا تو اس کی خبریں چاروں طرف پھیل گئیں ۔ بہت سے مخالفین کے لیے یہ مسلمانوں کے اعتماد کا مظاہرہ بن گیا۔ انہوں نے سوچا کہ مدینہ والوں کے پاس کافی طاقت ہو گی جبھی تو وہ اس نازک وقت میں اتنا بڑا لشکر دار السلطنت سے دور بھیج رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے سوچا کہ مدینہ پر اقدام کرنے میں ہم کو توقف کرنا چاہیے ۔ پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ مسلمانوں اور رومیوں کی جنگ کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ اگر مسلمانوں کو اس جنگ میں شکست ہوتی ہے تو وہ اور زیادہ کمزور ہو جائیں گے اور اس کے بعد ان کے اوپر اقدام کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔ اسامہ بن زید کے لشکر کو رومیوں کے خلاف مہم میں زبردست کامیابی ہوئی۔ اس مہم میں ان کو چالیس دن لگے ۔ اسامہ بن زید اس مہم کی قیادت کے لیے موزوں ترین شخص تھے۔ کیونکہ ان کے باپ زید بن حارثہ کو رومیوں نے موتہ کی جنگ میں شہید کیا تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد پوری طرح کامیاب نہ ہو سکا تھا، یعنی مخالفین کا حوصلہ توڑنا۔ اسامہ کی رہنمائی میں اسلامی لشکر انتہائی بے جگری سے لڑا اور رومیوں کو شکست دی۔ اس کے بعد وہ کافی قیدی اور مال غنیمت لے کر مدینہ واپس آئے۔ یہ دیکھ کر باغیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے ۔ اور نسبتاً زیادہ آسانی کے ساتھ ان کو زیر کر لیا گیا— رسول کی پیروی ان کے لیے دشمنوں پر غلبہ کا ذریعہ بن گئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader