اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
بیہقی اور ابن عساکر نے حضرت عروہ ابن زبیر سے روایت کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ ذات السلاسل کے لیے ایک دستہ حضرت عمرو بن العاص کی سرداری میں بھیجا۔ یہ جگہ شام کے اطراف میں تھی۔ حضرت عمرو بن العاص جب وہاں پہنچے اور حالات معلوم کیے تو دشمن کی کثرت سے ان کو خوف پیدا ہوا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیج کر مزید مدد طلب کی۔ آپ نے مہاجرین کو بلایا اور دوسو آدمیوں کا ایک دستہ تیار کیا۔ اس دستہ میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر وغیرہ بھی شامل تھے۔ آپ نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کو اس دستہ کا امیر مقرر کیا اور حکم دیا کہ فوراً روانہ ہوں اور حضرت عمرو بن العاص سے جا کر مل جائیں۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کا دستہ جب منزل پر پہنچا اور دونوں دستے ساتھ ہو گئے تو یہ سوال پیدا ہوا کہ دونوں کا امیر کون ہو۔ حضرت عمرو بن العاص نے کہا: میں تم سب کا امیر ہوں ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی مدد کے لیے لکھا تھا تم لوگ اس کے مطابق میری مدد کے لیے بھیجے گئے ہو۔ حضرت ابو عبیدہ کے ساتھ جو مہاجرین آئے تھے انہوں نے اس کو نہیں مانا۔ انہوں نے حضرت عمرو بن العاص سے کہا: تم اپنے ساتھیوں کے امیر ہو اور ابو عبیدہ ہمارے امیر ہیں (بَلْ أَنْتَ أَمِیرُ أَصْحَابِكَ وَأَبُو عُبَیْدَةَ أَمِیرُ الْمُهَاجِرِینَ)۔ حضرت عمرو بن العاص اس تقسیم پر راضی نہیں ہوئے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ تمہاری حیثیت امدادی فوج کی ہے اور تم لوگ میرا ساتھ دینے کے لیے بھیجے گئے ہو (اِنَّمَا أَنْتُمْ مَدَدٌ أُمِدْدْتُ) حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے جب یہ حال دیکھا تو کہا: تَعَلَّمْ يَا عَمْرُو وَ أَنَّ آخِرَ مَا عَهِدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قَالَ: ”إِذَا قَدِمْتَ عَلَى صَاحِبِكَ فَطَاعَ وَعَا “ وَإِنَّكَ إِنْ عَصَيْتَنِي لَأُطِيعَنَّكَ (اے عمر و! تم پر واضح ہو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader