اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 91
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ رسول اللہ نے مجھ کو رخصت کرتے ہوئے جو آخری عہد لیا وہ یہ تھا کہ جب تم اپنے ساتھی کے پاس پہنچو تو دونوں اتفاق کے ساتھ مل کر کام کرنا، باہم اختلاف نہ کرنا۔ پس خدا کی قسم اگر تم میری بات نہ مانو گے تب بھی میں تمہاری اطاعت کروں گا)۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد ابو عبیدہ نے امارت عمروبن العاص کے حوالے کر دی اور ان کی ماتحتی میں کام کرنے پر راضی ہو گئے (فَسَلَّمَ أَبُو عُبَيْدَةَ الْإِمَارَةَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ) دلائل النبوة للبيهقى، جلد 4، صفحه 399۔ اگر دونوں اپنا اپنا اصرار جاری رکھتے تو مسئلہ ختم نہ ہوتا اور جو طاقت دشمن سے مقابلہ کے لیے بھیجی گئی تھی وہ آپس میں لڑ کر فنا ہو جاتی۔ ایسے اختلافی مواقع پر ایک شخص کا جھکنا پوری جماعت کو طاقت ور بنا دیتا ہے اور ایک شخص کے نہ جھکنے سے پوری جماعت کمزور ہو جاتی ہے۔ -11- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سب سے آخری ابراہیم تھے۔ وہ ماریہ قبطیہ کے بطن سے 9 ھ میں پیدا ہوئے، اور تقریباً 18 ماہ کی عمر میں ابراہیم کی وفات ہو گئی۔ جس دن ان کی وفات ہوئی اس دن سورج گرہن تھا۔ محمود پاشا فلکی (وفات 1302ھ) کی تحقیق کے مطابق یہ 29 شوال 10 ھ کی تاریخ تھی۔ قدیم زمانہ میں گرہن کے متعلق طرح طرح کے توہماتی خیالات پھیلے ہوئے تھے۔ انہی میں سے ایک یہ تھا کہ جب کوئی بڑا آدمی مرتا ہے تو سورج گرہن یا چاند گرہن ہوتا ہے۔ ابراہیم کی وفات کے دن جب سورج گرہن پڑا تو لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ پیغمبر کے بیٹے کی موت کی وجہ سے یہ سورج گرہن ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے بتایا کہ موت کے واقعہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ ابوموسیٰ اشعری کی روایت کے مطابق آپ نے فرمایا: هَذِهِ الْآيَاتُ الَّتِي يُرْسِلُ اللهُ ، لَا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنْ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader