اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 92
By Maulana Wahiduddin Khan
يَخُوفُ اللَّهُ بِهِ عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 1059) یعنی، یہ نشانیاں جو اللہ بھیجتا ہے وہ نہ کسی کی موت کی وجہ سے ہوتی ہیں اور نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے بلکہ ان کے ذریعہ اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ پس جب تم اس قسم کی چیز دیکھو تو ڈر کے ساتھ اللہ کو یاد کرو اور اس کو پکارو اور اس سے مغفرت مانگو۔ سورج گرہن یا چاند گرہن محض اتفاقاً نہیں ہوتے بلکہ متعین فلکیاتی قانون کے تحت ہوتے ہیں۔ سورج اور چاند دونوں نہایت محکم قدرتی اصول کے مطابق حرکت کر رہے ہیں۔ اس حرکت کے دوران کبھی ایسا ہوتا ہے کہ زمین، سورج اور چاند کے درمیان آجاتی ہے، اس طرح سورج کی روشنی چاند تک نہیں پہنچ پاتی اور چاند گرہن ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ چاند، زمین اور سورج کے درمیان آجاتا ہے، اس کے نتیجہ میں سورج کی روشنی زمین تک نہیں پہنچتی اور وہ صورت پیش آتی ہے جس کو سورج گرہن کہا جاتا ہے۔ گویا سورج گرہن کا مطلب سورج کا چاند کے اوٹ میں آجانا ہے اور چاند گرہن یہ ہے کہ زمین کے اوٹ میں آجانے کی وجہ سے سورج کی روشنی چاند تک نہ پہنچے۔ یہ جو کچھ ہوتا ہے معلوم فلکیاتی نظام کے مطابق ہوتا ہے۔ مثلاً 16 فروری 1980 کو جو سورج گرہن پڑا وہ بہت پہلے سے فلکیات دانوں کو معلوم تھا اور نہایت صحت کے ساتھ اس کے اوقات متعین کیے جا چکے تھے اور انہیں متعین اوقات کے مطابق وہ شروع اور ختم ہوا۔ اس طرح کے گرہن برابر ہوتے رہتے ہیں۔ البتہ ان کے دکھائی دینے کے علاقے الگ الگ ہوتے ہیں۔ کہیں مکمل گرہن دکھائی دیتا ہے اور کہیں جزئی گرہن۔ مکمل سورج گرہن کے وقت سورج کی روشنی تقریباً ایک ہزار گنا کم ہو جاتی ہے۔ سنت یہ ہے کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کے موقع پر نماز پڑھی جائے۔ یہ نماز اللہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader