Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اسباقِ سیرت

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

کے آگے اپنے عجز اور بے بسی کا اظہار ہوتا ہے۔ سورج اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کے ذریعہ اللہ نے ہمارے لیے روشنی اور حرارت کا مستقل انتظام کیا ہے۔ سورج گرہن یہ بتانے کے لیے ہوتا ہے کہ جس خدا نے اس کو روشن کیا ہے وہی اس کو مانند بھی کر سکتا ہے۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ جس نعمت کو جب چاہے واپس لے لے۔ اس لیے جب گرہن ہو تو آدمی کو چاہیے کہ اللہ کو یاد کرے ۔ اللہ کے مقابلہ میں اپنی محتاجی کا تصور کر کے اللہ کے آگے گر پڑے۔ وہ پکار اٹھے کہ ”خدایا! اگر تو سورج کو بجھا دے تو کوئی اس کو جلانے والا نہیں۔ اگر تو ہم کو روشنی اور حرارت سے محروم کر دے تو کوئی ہم کو روشنی اور حرارت دینے والا نہیں۔“ ”گرہن“ کا یہ معاملہ صرف چاند اور سورج کے ساتھ مخصوص نہیں۔ اس قسم کے واقعات اللہ کی دوسری نعمتوں کے ساتھ بھی مختلف صورتوں میں پیش آتے ہیں۔ صحت کے ساتھ بیماری گویا جسم کا گرہن ہے اور اچھے موسم کے ساتھ خراب موسم گو یا فضا کا گرہن۔ اس طرح ایک ملی ہوئی نعمت کو تھوڑی دیر کے لیے روک کر اس کے نعمت نہ ہونے کا احساس دلایا جاتا ہے تاکہ آدمی کے اندر شکر کا جذبہ ابھرے اور وہ یہ سوچے کہ اگر اللہ اس کو مستقل طور پر چھین لے تو آدمی کا کیا حال ہوگا۔ اللہ کو اپنے بندوں سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ اپنے رب سے ڈریں۔ انسان کو ڈرنے والا بنانے کے لیے جو اہتمام کیے گئے ہیں ان میں سے ایک قسم کا اہتمام وہ ہے جس کو ”گرہن“ کہا جاتا ہے۔ زمین مسلسل حرکت میں ہے۔ اس کے علاوہ زمین کے گولے کا اندرونی حصہ نہایت گرم پگھلے ہوئے مادہ کی صورت میں ہے جو ہر وقت کھولتے ہوئے پانی کی طرح جوش میں رہتا ہے۔ اس کے باوجود ہمارے قدموں کے نیچے زمین کی سطح بالکل ٹھہری ہوئی حالت میں ہے۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ مگر عام حالات میں ہم کو اس کے نعمت نہ ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔ اس لیے کبھی کبھی بھونچال کے ذریعہ زمین کی اوپری سطح کو ہلا دیا جاتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page