Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اسباقِ سیرت

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے تا کہ آدمی یہ جانے کہ خدا نے اس کے لیے تباہ کن لاوا کو کس طرح بند کر رکھا ہے۔ اگر وہ اس کو آزاد کر دے تو انسان کا کیا حال ہو۔ اسی طرح بارش ایک عجیب و غریب نعمت ہے۔ سورج کے اثر سے پانی کے بخارات کا اٹھ کر اوپر جانا ، ان کا بادلوں کی صورت میں جمع ہونا اور پھر ہوا کے ذریعہ جگہ جگہ باران رحمت بن کر نازل ہونا اور پھر زمین کو سر سبز و شاداب کرنا ، یہ سب رحمت خداوندی کے عجیب و غریب شے ہیں جو وہ مستقل طور پر اپنے بندوں کے لیے کرتا رہتا ہے۔ مگر خود بخود ملتے رہنے کی وجہ سے آدمی اس نعمت کی قدر بھول جاتا ہے اس لیے کبھی کبھی زمین پر خشک سالی پیدا کی جاتی ہے تا کہ آدمی کا شعور جاگے اور وہ خدا کی نعمت کی قدر کر سکے ۔ ہوا کیسی عجیب و غریب نعمت ہے۔ ہوا ہر آن ہم کو تازہ آکسیجن پہنچا رہی ہے۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے خدائی پنکھے کی طرح ہم کو فرحت بخشتے رہتے ہیں۔ ہوا بارش کے نظام کو درست کرتی ہے۔ ہوا کے بے شمار فائدے ہیں۔ مگر جس طرح وہ ہماری آنکھوں کو نظر نہیں آتی اسی طرح اس کی اہمیت بھی ہمارے شعور سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ اس لیے کبھی کبھی ہوا کو طوفان بنا دیا جاتا ہے تا کہ آدمی یہ جانے کہ ہوا کی صورت میں اللہ نے اس کی زندگی کے لیے کیسا حیران کن انتظام کر رکھا ہے۔ اسی طرح ہر چیز کا ایک ''گرہن‘‘ ہے اور وہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی کے اندر نعمت کے احساس کو جگائے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : ''اس چیز کو دیکھو جس کو تم بوتے ہو تم اس سے کھیتی اگاتے ہو یا ہم ہیں اس کو کھیتی بنانے والے ۔ اگر ہم چاہیں تو اس کو بھُس بنا کر رکھ دیں پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ کہ ہم قرضدار ہو گئے ۔ بلکہ ہم تو بالکل محروم ہو گئے۔ پانی کو دیکھو جس کو تم پیتے ہو۔ کیا تم نے اس کو بادل سے اتارا ہے یا ہم ہیں اتارنے والے ۔ اگر ہم چاہیں تو اس کو کھاری کر دیں پھر کیوں تم شکر نہیں کرتے۔ آگ کو دیکھو جس کو تم جلاتے ہو۔ کیا تم نے اس کا درخت پیدا کیا ہے یا ہم ہیں اس کے پیدا کرنے والے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page