Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اسباقِ سیرت

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

ہم نے ہی اس کو بنایا ہے یاد دلانے کے لیے اور تمہارے برتنے کے لیے۔ پس اللہ کے نام کی پاکی بیان کرو جو سب سے بڑا ہے“ (74:56-63)۔ ہماری پوری زندگی ایسی خدائی نعمتوں کے اوپر نہر بھر ہے جو کسی بھی لمحہ واپس لی جاسکتی ہیں۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے خالق و مالِک کا شکر گزار بنے تا کہ وہ اپنی نعمتوں سے کبھی اس کو محروم نہ کرے۔ یہ شکر گزاری ہی آدمی کو خدا کی نعمتوں کا مستحق بناتی ہے، موجودہ دنیا میں بھی اور موت کے بعد آنے والی آخرت میں بھی۔ -12- احمد اور طبرانی نے حضرت عائشہ کی ایک روایت مختلف الفاظ میں نقل کی ہے۔ بعد کے زمانہ میں حضرت عائشہ نے ایک شخص کو وہ احوال بتائے جو ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل خاندان پر گزرے تھے۔ انہوں نے ایک رات کا ذکر کیا، جب انھوں نے اندھیرے میں ٹول کر کام کیا تھا۔ اس کے بعد روایت کے الفاظ یہ ہیں: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، عَلَى مِصْبَاحٍ ذَاكَ؟ قَالَتْ: لَوْ كَانَ عِنْدَنَا دُهْنٌ مِصْبَاحٌ لَأَحْكَلْنَاهُ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 8872)۔ یعنی راوی کہتے ہیں، میں نے حضرت عائشہ سے چراغ کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا: اگر ہمارے پاس چراغ جلانے کے لیے تیل ہوتا تو چراغ جلانا تو درکنار ہم اس کو بھوک کی وجہ سے پی جاتے۔ ہجرت کے بعد جس بستی کو مدینۃ الرسول اور مدینہ طیبہ کا لقب ملا، وہاں اس وقت ایک بھی پکا مکان نہ تھا۔ مسجدِ نبوی بس ایک بڑا سا چھپر تھی جس کو چاروں طرف سے مٹی اور کھجور کے پتوں سے گھیر دیا گیا تھا۔ مسجد میں رات کے وقت روشنی کا کوئی انتظام نہ تھا۔ مسجد نبوی میں ہجرت کے نویں سال چراغ جلایا گیا۔ پہلا شخص جس نے مدینہ کی مسجد نبوی میں رات کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page