Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اسباقِ سیرت

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

چراغ جلایا وہ تمیم داری ہیں (معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم الاصبہانی، جلد 1، صفحہ 448)۔ تمیم داری نے 9ھ میں اسلام قبول کیا، اس وقت مکہ فتح ہو چکا تھا اور تقریباً سارا عرب اسلام میں داخل ہو چکا تھا۔ جب مسلمانوں کے پاس اپنے گھروں کو روشن کرنے کے لیے چراغ نہ تھے اور مسجد میں رات کے وقت اندھیرا رہتا تھا تو اسلام اور مسلمانوں کو دنیا میں عزت و غلبہ حاصل تھا۔ آج مسلمانوں کے گھر روشن ہیں۔ ان کی مسجدیں جدید طرز کے قمقموں سے جگمگا رہی ہیں، مگر دنیا میں اسلام کا غلبہ نہیں، مسلمانوں کو کہیں عزت حاصل نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عزت و غلبہ کا مقام حاصل کرنے کے لیے اصل اہمیت انسان کی ہوتی ہے۔ آج مسلمانوں کے یہاں سب کچھ ہے مگر وہی چیز نہیں جس کو 'انسان‘ کہا جاتا ہے۔ اسلامی دنیا مردہ روحوں کا ایک عظیم قبرستان معلوم ہوتی ہے جہاں روشنیوں کی رونقیں اور درودیوار کی عظمتیں تو بہت ہیں مگر وہ انسان نہیں جو خدا کے لیے تڑپے، جو سچائی کے آگے جھک جائے، جو آخرت کی خاطر اپنی دنیا کو قربان کر سکے، جو اپنی خواہشوں کو برتر اصولوں کے تابع کر دے۔ اسلام کو سر بلند کرنے کے لیے وہ انسان درکار ہیں جن کو عظمتِ خداوندی کے احساس نے متواضع بنا دیا ہو، جن کا خوف آخرت ان سے ان کی اکڑ چھین لے۔ اور یہی وہ انسان ہیں جو اسلام کے بھرے ہوئے شاندار پنڈال میں آج کہیں موجود نہیں۔ -13- قدیم عرب کے شمال اور جنوب کے زرخیز حصے اس زمانہ کی دو بڑی شہنشاہیتوں ساسانی سلطنت اور بازنطینی سلطنت کے قبضہ میں تھے۔ شمال میں امارت غساسنہ اور امارت بُصری تھی۔ یہ دونوں بازنطینی سلطنت رومیوں کے ماتحت تھیں اور یہاں ان کی طرف سے عرب سردار حکومت کرتے تھے۔ رومی اثرات کے تحت یہاں کی اکثر آبادی مسیحی مذہب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page