اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
اختیار کرچکی تھی، عرب کے جنوب میں امارتِ بحرین، امارتِ عمان، امارتِ یمامہ تھی۔ یہ ریاستیں ساسانی سلطنت (ایرانیوں) کے ماتحت تھیں اور ان کے اثر سے یہاں کے باشندوں میں مجوسیت پھیلی ہوئی تھی۔ 6ھ میں جب حدیبیہ کے مقام پر قریش سے دس سال کا جنگ معاہدہ ہوا اور حالات پر امن ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے اطراف میں واقع سلطنتوں کو دعوتی مراسلے بھیجنے شروع کیے۔ اس سلسلے میں ایک مراسلہ حارث بن ابی شمر غسانی کے نام تھا۔ رسول اللہ کے سفیر شجاع بن وہب آپ کا مراسلہ لے کر اس کے پاس گئے۔ اس مراسلہ میں یہ بھی تھا کہ اللہ پر ایمان لاؤ تمہاری حکومت باقی رہے گی (يَبْقَى لَكَ مُلْكُكَ)۔ اس نے مکتوب نبوی میں یہ جملہ پڑھا تو اس کو غصہ آ گیا۔ اس نے خط کو زمین پر پھینک دیا اور کہا: میری حکومت مجھ سے کون چھین سکتا ہے (مَنْ يَنْزِعُ مِنِّي مُلْكِی) تاريخ الطبری، جلد 2، صفحہ 652۔ حاکم بصری شرحبیل بن عمرو غسانی نے اس سے بھی زیادہ بیہودہ سلوک کیا۔ اس رومی گورنر کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر حارث بن عمیر ازدی آپ کا خط لے کر گئے تھے، وہ سرحد شام پر قصبہ موتہ میں داخل ہوئے تھے کہ حاکم بصری کے اشارہ پر ایک اعرابی نے آپ کے سفیر کو قتل کر دیا (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد 4، صفحہ 255)۔ بین اقوام روایات کے مطابق یہ واقعہ ایک ملک پر دوسرے ملک کی جارحیت کے ہم معنی تھا۔ مختلف قرائن یہ بھی ظاہر کر رہے تھے کہ شام کی فوجیں پیش قدمی کر کے مدینہ میں داخل ہونا چاہتی ہیں۔ رومی شہنشاہ ہیبت اس کو برداشت نہیں کر سکتی تھی کہ عرب میں کوئی آزاد حکومت قائم ہو اور ترقی کرے۔ حارث بن عمیر کے قتل کی خبر مدینہ پہنچی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فوجی جواب دینا ضروری سمجھا۔ آپ نے حکم دیا کہ مسلمان اپنے اپنے ہتھیار لے کر موضع حرقم میں جمع ہو جائیں۔ چنانچہ تین ہزار کی تعداد میں اسلامی لشکر اکٹھا ہو گیا۔ آپ نے اس لشکر پر زید بن حارثہ کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader