جھوٹا دین
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
جھوٹا دین بائبل میں یہود کے بگاڑ کے بارہ میں یہ الفاظ آتے ہیں : " یہ باغی لوگ اور جھوٹے فرزند ہیں۔ جو خدا کی شریعت کو سننے سے انکار کرتے ہیں۔ جو غیب بینوں سے کہتے ہیں کہ غیب بینی نہ کرو۔ اور نبیوں سے کہ ہم پر سچی نبوتیں ظاہر نہ کرو۔ ہم کو خوشگوار باتیں سناؤ۔ اور ہم سے جھوٹی نبوت کرو۔ پس اسرائیل کا قدوس یوں فرماتا ہے کہ چونکہ تم اس کلام کو حقیر جانتے ہو اور ظلم اور کج روی پر بھروسہ کرتے ہو اور اسی پر قائم ہو، اس لئے یہ بدکرداری تمہارے لئے ایسی ہوگی جیسے پھٹی ہوئی دیوار جو گرانا چاہتی ہے۔ وہ اسے کمہار کے برتن کی طرح توڑ ڈالے گا۔ اسے بے دریغ چکنا چور کرے گا۔ اس کے ٹکڑوں میں ایک ٹھیکرا بھی ایسا نہ ملے گا جس میں چولھے پر سے آگ یا حوض سے پانی لیا جائے ۔ (یسعیاہ باب ۳۰) یہود کا بگاڑ یہ نہیں تھا کہ انہوں نے دین کو چھوڑ دیا تھا۔ ان کا بگاڑ یہ تھا کہ وہ خود ساخته دین پر تھے اور اس کو خدا کا دین بناتے تھے۔ خدا کے جو بندے انہیں سچے دین کی طرف بلاتے ان کو وہ حقیر جانتے تھے اور ان کو نظر انداز کرتے تھے ۔ اس کے برعکس جو لوگ جھوٹی کرامتوں اور گھڑی ہوئی بشارتوں کے نام پر انہیں بلاتے ان کے گرد وہ جوق در جوق جمع ہو جاتے۔ یہود کو ایسا دین پسند نہیں آتا تھا جو ان کی زندگیوں میں تبدیلی کا تقاضا کرتا ہو۔ وہ ایسے دین کو پسند کرتے تھے جس میں اپنی زندگی کا ڈھانچہ توڑنا نہ ہو۔ بس کچھ اوپری اور نمائشی کام کر کے جنت کی ضمانت مل جائے۔ مگر اس قسم کا دین اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ خدا کے کلام کو حقیر جاننا اور ظلم اور کج روی پر بھروسہ کرنا جس میں یہود مبتلا تھے وہی آج پوری طرح مسلمانوں کے اندر پایا جاتا ہے۔ دوسروں سے مسلمانوں کے جو مادی جھگڑے ہیں ان میں یہ چیز سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ ان جھگڑوں میں خدا کے بتائے طریقہ پر چلنے کا فائدہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ البتہ ظالمانہ مقابلہ اور بھوٹی سرگرمیوں میں وہ خوب اپنا وقت اور مال خرچ کرتے ہیں۔ اس قسم کی سرگرمیاں خدا کی نظر میں " بدکرداری" ہیں اور ان کا نتیجہ ان کے حق میں بھی وہی نکلے گا جو یہود کے حق میں نکلا۔ یہ کہ ان کا گھر پھٹی ہوئی دیوار کی طرح گر پڑے اور وہ مٹی کے برتن کی طرح توڑ ڈالے جائیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader