Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

قرآن کا اہم ترین حصہ

Urdu book, p. 99

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کا اہم ترین حصہ پروفیسر فلپ ہٹی نے اپنی کتاب ہسٹری آف دی عربس میں قرآن کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قرآن کے سب سے زیادہ پراثر حصے وہ ہیں جو آخرت کے معاملات سے بحث کرتے ہیں۔ (صفحہ ۱۳۰) The most impressive parts of the Koran deal with eschatology جن غیرمسلموں نے قرآن کو پڑھا ہے وہ عام طور پر اسی قسم کے تاثر کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کو سب سے کم جو چیز قرآن میں ملتی ہے وہ یہی آخرت ہے۔ مسلمان ہر چیز قرآن میں پا لیتے ہیں مگر اسی چیز کو نہیں پاتے جو قرآن میں سب سے زیادہ بلکہ ہر ہر صفحہ پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غیرمسلم عام طور پر خالی الذہن ہوتا ہے۔ وہ صرف یہ جاننے کے لئے پڑھتا ہے کہ قرآن میں جو کچھ لکھا ہے وہ کیا ہے۔ چنانچہ جو کچھ قرآن میں لکھا ہے وہ اس کو کسی کی پیشی کے بغیر پالیتا ہے۔ مگر مسلمانوں کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ مسلمان زیادہ تر رد و جذب کے تحت قرآن پڑھتے ہیں۔ یا ثواب کے لئے یا فتح کے لئے۔ کچھ لوگ قرآن کو سب سے زیادہ مقدس کتاب سمجھ کر بس اس کی تلاوت کر لیتے ہیں تاکہ اس کا ثواب انھیں مل جائے۔ اس کے بعد کچھ لوگ وہ ہیں جو قرآن کو اپنا ایک قومی فخر سمجھتے ہیں اور فخر کی نفسیات لے کر قرآن کو پڑھتے ہیں۔ ایسے لوگ قدرتی طور پر قرآن کو زمانہ کی روشنی میں دیکھنے لگتے ہیں۔ زمانہ میں جن چیزوں کو اہمیت حاصل ہے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی پر فخر کتاب ضرور اس کا مجموعہ ہوگی۔ اب جس کے ذہن میں سوشلزم سب سے بڑی چیز ہے وہ قرآن میں سوشلزم کو پڑھنے لگتا ہے۔ جس کے ذہن میں سائنس کی اہمیت ہے وہ قرآن کی عظمت کو سائنس کی صورت میں پالیتا ہے۔ اسی طرح جس کے ذہن میں سیاست اور قانون کی اہمیت ہے۔ وہ قرآن میں جو سب سے اہم بات دریافت کرتا ہے وہ سیاست اور قانون ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن آخرت کی کتاب ہے۔ قرآن اس لئے آیا ہے کہ وہ آنے والے دن سے پہلے آنے والے دن کے بارہ میں لوگوں کو خبردار کر دے۔ قرآن مادی صور سے پہلے لفظی صور ہے۔ جو لوگ لفظی صور سے جاگ جائیں وہ کامیاب ہیں۔ جو لوگ مادی صور سے جاگیں گے ان کے لئے ان کا جاگنا کچھ کام نہ آئے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page