دین کے نام پر بے دینی
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
دین کے نام پر بے دینی قرآن کی تین سورتوں (الاعراف ، طٰہ ، الشعراء) میں یہ بات کہی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ کو خدا نے پیغمبر بنایا۔ اس کے بعد وہ خدا کے حکم کے مطابق شاہ مصر فرعون کے دربار میں گئے۔ انھوں نے فرعون کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکل کر میرے ساتھ صحرائے سینا میں جانے دے (ارسل معنا بنی اسرائیل) اس کے جواب میں فرعون نے اپنے درباریوں کے سامنے جو تقریر کی اس میں اس نے کہا کہ موسیٰ چاہتے ہیں کہ تم کو تمھارے ملک مصر سے نکال دیں (یرید ان یخرجکم من ارضکم) حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو ساتھ لے کر خود ملک مصر سے نکل جانے کی بات کی تھی۔ مگر فرعون نے لازم کے صیغہ کو متعدی کا صیغہ بنا دیا۔ اس نے کہا کہ موسیٰ ہم لوگوں کو مصر سے نکال دینا چاہتے ہیں۔ فرعون نے اپنی قوم اور اپنے درباریوں کو موسیٰ کے خلاف بھڑکانے کے لئے آنجناب کی طرف وہ بات منسوب کر دی جو آپ نے خود نہیں فرمائی تھی۔ فرعون کا کلمہ واضح طور پر شرارت کا کلمہ تھا۔ یہ ویسا ہی تھا جیسے موجودہ زمانہ کے ظالم حکماں یہ کرتے ہیں کہ اگر وہ کسی شخص سے ناراض ہوں تو وہ اپنی خفیہ پولیس کے ذریعہ اس انکشاف کا اعلان کرتے ہیں کہ وہ حکراں کو قتل کر کے حکومت پر قبضہ کرنے کی سازش کر رہا تھا۔ اس طرح وہ اپنے اس عمل کے لیے جو جواز فراہم کرتے ہیں کہ اس شخص کو بغادت کا مجرم قرار دے کر ہلاک کر دیں۔ فرعون شرک اور کفر کا علم بردار تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں اسلام کے ایسے علم بردار پیدا ہوئے ہیں جو قرآن سے فرعون کے الفاظ (یرید ان یخرجکم من ارضکم) لے لیتے ہیں۔ اور پھر کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کی دعوت عام معنوں میں صرف ایک دینی دعوت نہ تھی بلکہ وہ سیاسی انقلاب برپا کرنے کا منصوبہ تھا۔ حضرت موسیٰ اس لئے اٹھے تھے کہ فرعون کو اقتدار کے تخت سے بے دخل کر کے اس پر قبضہ کریں اور ملک میں حکومت الہیہ کا نظام قائم کریں۔ وہ کلمہ موسیٰ کے بجائے کلمہ فرعون سے پیغمبر کا مشن برآمد کر رہے ہیں۔ فرعون کا کلمہ صرف اس قابل ہے کہ اس کو شرارت کے خانہ میں جگہ ملے۔ مگر جو لوگ فرعون کے کلمہ سے پیغمبر کا مشن بر آمد کر رہے ہیں ان کے قول کو آخر کس خانہ میں رکھا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader