Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

برانام دینا

Urdu book, p. 166

By Maulana Wahiduddin Khan

اس آیت میں جس چیز سے منع کیا گیا ہے ، اس کا تلخ تجربہ ہم کو ماہنامہ الرسالہ کے سلسلہ میں ہوا۔ الرسالہ میں اسلام کے جن پہلوؤں کو نمایاں کیا جارہا ہے ان میں سے ایک وہ ہے جس کا تعلق تعمیر ملت سے ہے۔ الرسالہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو تلقین کرتا ہے کہ وہ قرآن کے حکم کے مطابق صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کریں۔ اس بات سے برہم ہو کر کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ الرسالہ مسلم دشمنوں کا بھنڈ ہے ، وہ مسلمانوں کو بزدلی سکھارہا ہے ، وغیرہ۔ اس طرح کے تبصرے ، مذکورہ آیت کے مطابق ، بلا شبہ فسق ہیں۔ یہ ہم کو وہ نام دینا ہے جو ہم نے اپنا نام نہیں رکھا ، اور ہماری طرف وہ الفاظ منسوب کرنا ہے جو ہم نے اپنی زبان سے ادا نہیں کیا۔ لوگوں کو اگر کہنا ہے تو یہ کہیں کہ الرسالہ صبر اور اعراض کی پالیسی پر عمل کرنے کا سبق دیتا ہے اور ہم فلاں شرعی یا عقلی دلیل کی بنا پر اس کو رد کرتے ہیں۔ انھیں جو کچھ بولنا ہے " صبر اور اعراض " پر بولیں نہ کہ " بزدلی " یا کسی اور نام پر جو انھوں نے خود سے گھڑ کر ہمارے اوپر چسپاں کر دیا ہو۔ ہم نے جو کہا ہے وہ یہ ہے کہ " مسلمان صبر کریں ، ہم نے یہ نہیں کہا کہ " مسلمان بزدل بنیں " ایسی حالت میں جو شخص ہمارے اوپر وہ لفظ چسپاں کرتا ہے جو ہم نے نہیں کہا تو اس کو جاننا چاہیے کہ اس کے اوپر قرآن کی مذکورہ آیت چسپاں ہورہی ہے ، خواہ وہ چاہے یا نہ چاہے ۔ مذکورہ آیت میں مزید یہ فرمایا گیا ہے کہ دوسرے شخص کو برا کہنے والا اگر توبہ نہ کرے تو اللہ کے یہاں وہ خود ظالم قرار پائے گا۔ یہی بات حدیث میں مختلف الفاظ میں آئی ہے۔ یہاں ہم چند روایتیں نقل کرتے ہیں : عن ابی ذر قال قال رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وسلم لا یرمی رجل رجلا بالفسوق ولا یرمیہ فرمایا کہ جب ایک شخص دوسرے شخص کو فسق یا کفر بالكفر الا ارتست عليه ان لم يكن کا الزام لگائے تو یہ الزام مزور کہنے والے پر لوٹے صاحبه كذالك (رواه البخاري) وعن ابن عمر گا اگر اس کا ساختی ایسا نہ ہو۔ حضرت عبداللہ بن قال قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ایما عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رجل قال لاخيه كافر فقد باء بها احد هما کہ جو شخص بھی اپنے بھائی کو کافر کہے تو وہ ضرور متفق عليه، وعن ابی ذر قال قال رسول الله صلی اللہ دونوں میں سے ایک پر پڑے گا۔ حضرت ابوذر کہتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page