برانام دینا
Urdu book, p. 167
By Maulana Wahiduddin Khan
علیہ وسلم من دمی رجلا بالکفر او قال عداو ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ وليس ذالك الا جاء عليه دوسرے شخص کو کافر کہہ کر پکارے یا اس کو ( متفق علیہ ) خدا کا دشمن کہے اور وہ ایسا نہ ہو تو یہ بات خود کہنے والے پر لوٹ آئے گی ۔ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کو برا نام دینا بے حد سنگین جرم ہے ۔ اور اس کی سنگینی کا سب سے زیادہ نازک پہلو یہ ہے کہ جس شخص کو برا نام دیا گیا ہے ، اگر وہ ایسا نہیں ہے تو اس برے نام کا سارا وبال خود کہنے والے کی طرف لوٹ آئے گا ۔ شریعت اسلام نے اس سے کسی کو نہیں روکا کہ وہ حقائق و واقعات کی بنیاد پر کسی کے خیالات کا تجزیہ کرے جس کو موجودہ زمانہ میں علمی تنقید کہا جاتا ہے۔ مگر کسی کو برا نام دینا کسی کے بارے میں مخالفانہ ریمارک پاس کرنا سراسر غیر شرعی فعل ہے ۔ یہ اللہ کو اتنا زیادہ ناپسند ہے کہ اگر مخاطب دینا ہو تو یہ برا نام خدا کے رجسٹر میں خود قائل کے خانہ میں لکھ دیا جاتا ہے ۔ گویا یہ ایک قسم کا بوم رینگ (Boomerang) عمل ہے ۔ یہ ایک ایسا پتھر ہے جو دوسرے پر نہ پڑے تو وہ لوٹ کر خود پھینکنے والے پر پڑتا ہے ۔ مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس آیت کی تفسیر کے تحت لکھا ہے : " عموماً دیکھا جاتا ہے کہ جہاں دو دشمنیوں یا دو جماعتوں میں اختلاف رونما ہوا ، بس ایک دوسرے کا تمسخر اور استہزاء کرنے لگتے ہیں۔ ذراسی بات ہاتھ لگ گئی اور ہنسی مذاق اڑانا شروع کر دیا ۔ حالاں کہ اسے معلوم نہیں کہ شاید جس کا مذاق اڑا رہا ہے وہ اللہ کے نزدیک اس سے بہتر ہو۔ بلکہ بسا اوقات یہ خود بھی اختلاف سے پہلے اس کو بہتر سمجھتا ہوتا ہے گرمند اور نفسانیت میں دوسرے کی آنکھ کا تنکا نظر آتا ہے ، اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔ آئینہ خدا میں خداوند قدوس نے اس قسم کی باتوں سے منع فرمایا ہے ۔ یعنی ایک جماعت دوسری جماعت کے ساتھ نہ مسزا پین کرے نہ ایک دوسرے پر آوازے کے جائیں ، نہ کھوج لگا کر عیب نکالے جائیں اور نہ برے ناموں اور برے القاب سے فریق مقابل کو یاد کیا جائے ۔ کسی کا برا نام ڈالنے سے آدمی خود گناہ گار ہوتا ہے ۔ اُسے تو واقع میں عیب لگایا نہ لگا ، لیکن اس کا نام بد تہذیب ، فاسق ، گنہگار ، مردم آزار پڑ گیا ۔ جو پہلے ہو چکا اب توبہ کر لو ۔ اگر یہ احکام و ہدایات سننے کے بعد بھی ان جرائم سے توبہ نہ کی تو اللہ کے نزدیک اصلی ظالم یہ ہی ہوں گے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader