برانام دینا
Urdu book, p. 168
By Maulana Wahiduddin Khan
البلد الامين ۔ لقد خلقنا الانسان فی اس امن والے شہر کی۔ یقیناً ہم نے پیدا کیا انسان احسن تقويم ۔ ثم ردناه اسفل کو سب سے اچھی ساخت پر۔ پھر ہم نے لوٹا دیا اس سافلين ۔ الا الذين امنوا وعملوا کو سب سے نچلی پستی میں۔ مگر جو لوگ کہ ایمان الصليحت فلهـم اجر غير ممنون ۔ لائے اور بھلائیاں کیں تو ان کے لیے ثواب ہے فما يکذبک بعد بالدين ۔ اليس بے انتہا۔ پھر کیا چیز تجھ کو روز جزاکے جھٹلانے لله باحکم الحاكمين ۔ ( التین) پر آمادہ کر رہی ہے۔ کیا خدا سب حاكموں سے بڑا حاکم نہیں۔ ”تین اور زیتون سے مراد فلسطین کی دو پہاڑیاں ہیں جن کے قریب بیت المقدس واقع ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش اور بعثت ہوئی۔ طور، صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے خطاب فرمایا۔ بلد امین (مکہ) وہ شہر ہے جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی بنائے گئے۔ بابل میں ہے؛ خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر چمکا۔ وہ کوہ فاران سے جلوہ گر ہوا (استثنا ٣٣ : ٢-١) یہود کی نظر میں سب سے زیادہ عظمت حضرت موسیٰ کی تھی اور عیسائیوں کی نظر میں حضرت مسیح کی۔ اس لیے پیغمبر آخر الزماں کے ساتھ ان دونوں مسلمہ شخصیتوں کی مثال دے کر بتایا کہ خدا کی طرف سے ان داعیوں کا آنا کس طرح ایک عظیم حقیقت کو آشکارا کرنے کا سبب بنا۔ وہ یہ کہ انسانوں میں دو قسم کے لوگ ہیں ایک احسن تقویم کے مقام پر ہے اور دوسرا اسفل سافلین کے مقام پر۔ اور جب انسانوں میں اس قسم کا فرق پایا جائے تو ان کا انجام ایک کیسے ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر دنیا کی زندگی میں خدا کی اس تقدیر کو دہراتے ہیں کہ دو قسم کے انسانوں کو ایک دوسرے سے الگ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader