شہادت کو وہ جنت کا مختصر راستہ سمجھتے تھے
Urdu book, p. 237
By Maulana Wahiduddin Khan
شہادت کو وہ جنت کا مختصر راستہ سمجھتے تھے شہید کے معنی گواہ کے ہیں۔ اس سے مراد اصلاح وہ لوگ ہیں جو دنیا میں لوگوں کو زندگی کی اس حقیقت سے باخبر کریں کہ مرنے کے بعد انھیں خدا کی عدالت میں حساب کے لئے کھڑا ہونا ہے۔ جو لوگ دنیا میں چیتادنی دینے کا یہ کام کریں گے وہ آخرت کی عدالت میں خدا کی طرف سے بطور گواہ پیش ہوں گے۔ ان کی گواہی کی بنیاد پر ان لوگوں کے اخروی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا جن کے اوپر انھوں نے دنیا کی زندگی میں گواہی دی تھی۔ تاہم شہید کا لفظ مقتول فی سبیل اللہ کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اللہ کی راہ میں لڑ کر جان دینے والوں کی فضیلت میں جو احادیث آئی ہیں، ان میں سے ایک حدیث یہ ہے: عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ أَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْإِيمَانَ بِاللَّهِ أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَ رَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرَ مُدْبِرٍ “ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “كَيْفَ قُلْتَ ؟ “ قَالَ: أَرَاَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَتُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: “نعم وانت صابر محتسب مقبل غير مدبر، إلا الدين فإنَّ جبريل قال في ذلك “، رواه مسلم ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا بہترین اعمال ہیں۔ ایک شخص نے اٹھ کر سوال کیا: اے خدا کے رسول اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں تو کیا میری خطائیں معاف ہو جائیں گی۔ آپ نے فرمایا: "ہاں، اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ اور تم صابر ہو، اجر کے طلب گار ہو، آگے بڑھنے والے ہو۔ پیچھے مرنے والے نہ ہو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم نے کس طرح کہا تھا، اس نے کہا: اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں تو کیا میری خطائیں معاف ہو جائیں گے۔ آپ نے فرمایا: ہاں، جب کہ تم صابر ہو، اجر کے طلب گار ہو، آگے بڑھنے والے ہو، پیچھے ہٹنے والے نہیں ہو۔ سوا قرض کے کیونکہ جبریل نے مجھ کو یہی بتایا ہے ۔ صحابہ کرام کے حالات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شہادت یا اللہ کی راہ میں قتل ہونے کو وہ جنت کا مختصر راستہ سمجھتے تھے ان کے نزدیک اصل مسئلہ یہ تھا کہ وہ اپنے رب کی جنت میں پہنچ جائیں۔ اللہ کی ناراضی سے بچنا اور اس کی رضا کو حاصل کرنا زیادہ چیز تھی جس کے لئے وہ سب سے زیادہ بے چین رہتے تھے۔ ہجرت کے بعد دشمنان اسلام سے مقابلہ چھیڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اللہ کی راہ میں جان دے دینا اللہ کی رضا اور اس کی جنت حاصل کرنے کا یقینی ذریعہ ہے۔ یہ سن کر وہ بیٹا بانڈ اس کی طرف دوڑ پڑے۔ زندہ رہنے سے زیادہ اللہ کی خاطر مر جاتا ان کے لئے محبوب بن گیا۔ کیونکہ یہ اللہ تک پہنچنے کا یقینی راستہ تھا اور اسی کے ساتھ قریبی بھی۔ شہادت ان کے لئے اللہ سے ملنے کا عنوان تھا نہ کہ حقیقتاً میدان جنگ کے لوگوں سے ملنے کا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader