شہادت کو وہ جنت کا مختصر راستہ سمجھتے تھے
Urdu book, p. 238
By Maulana Wahiduddin Khan
کی سرحد پر متعین تھا۔ انہوں نے لکھا : اما بعد، ناسلم تسلم او اعتقل لنفسك قومك اما بعد، اسلام لاؤ نجات پاؤ گے۔ اسلام منظور نہیں ہے الذمة واعشور بالجزیة الا فلا تلومن الا توانی اور اپنی قوم کی طرف سے جزیہ یاد کرو۔ ورنہ اپنے نفسك فقد جئتك بقوم يحبون الموت كما سوا کسی اور کو ملامت نہ کرنا۔ کیوں کہ میں تمھارے اوپر تحبون الحياة (تاریخ طبری، جلد ۳) ایک ایسی قوم لے کر آیا ہوں جس کو موت اسی طرح محبوب ہے جس طرح تم کو زندگی۔ صحابہ کرام اللہ کی راہ میں لڑکر شہید ہونے کو نہ صرف نجات کا یقینی ذریعہ سمجھتے تھے بلکہ ان کو یقین تھا کہ یہ وہ عمل ہے جو جنت کے سفر کو مختصر کر دیتا ہے۔ ابوبکر بن ابو موسیٰ اشعریؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے باپ سے سنا۔ جنگ کا موقع تھا، دشمن سامنے تھے۔ انھوں نے کہا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : ان ابواب الجنة تحت ظلال السيوف (جنت کے دروازے تلواروں کی چھاؤں میں ہیں) ایک شخص نے جو پھٹے کپڑے پہنے ہوئے تھا، کہا: اے ابو موسیٰ ! کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے۔ انھوں نے کہا ہاں، وہ آدمی اسی وقت اپنے ساتھیوں میں آیا۔ ان کو سلام کیا۔ پھر اپنی تلوار کی میان توڑ ڈالی اور تلوار لے کر دشمنوں کی صف میں گھس گیا۔ وہ لڑتا رہا یہاں تک کہ مارا گیا (مسلم) جنگ بدر کے موقع پر جب دشمن بالکل قریب آگئے تو آپؐ نے فرمایا : قوموا الى جنة عرضها السموات والا رض لا یسی جنت کی طرف چلو جس کی چوڑائی آسمان وزمین کے برابر ہے) عمیر بن حمام انصاریؓ نے کہا ” آسمان وزمین جیسی چوڑی “ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ ان کی زبان سے نکلا خخ (واہ واہ) آپؐ نے فرمایا تم نے خخ کیوں کہا۔ انھوں نے جواب دیا : خدا کی قسم اس امید میں کہ شاید میں بھی جنت والوں میں ہو جاؤں۔ آپؐ نے فرمایا تم ان میں سے ہو۔ انھوں نے کھجور نکالی اور کھانے لگے۔ پھر بولے : لئن انا حبيت حتى آكل ثمراتی هذه انها لحياة طويلة (اگر میں ان کھجوروں کے کھانے تک زندہ رہوں تو یہ بڑی لمبی زندگی ہوگی) انھوں نے کھجوریں پھینک دیں دشمنوں میں گھس گئے اور لڑتے ہوئے شہید ہو گئے (مسلم) انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ حرام بن ملحان رض کو جبار بن سلمی کلابی نے نیزہ مارا۔ زخم کاری تھا، جسم سے خون بہہ پڑا۔ حضرت حرام کی زبان سے نکلا : اللہ اکبر ! فزت و رب الكعبة (کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہو گیا) یعنی جنت کو پانے میں (بخاری) عروہ بن زبیرؓ کہتے ہیں کہ ذی الحجہ ۸ ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین ہزار آدمی موتہ کی طرف روانہ گئے۔ یہ لوگ سرحد شام پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ ہر قل ایک لاکھ یا دو لاکھ رومی لشکر کے ساتھ بلقار میں ٹھہرا ہوا ہے۔ مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے کہا کہ مقابلے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمنوں کی تعداد سے مطلع کیا جائے۔ عبداللہ بن رواحہ کھڑے ہوئے اور انھوں نے کہا : یا قوم ! والله ان التي تكرهون للتی خرجتم تطلبون لوگو! خدا کی قسم جس چیز کو تم ناپسند کر رہے ہو، وہ وہی ہے الشهادة (البدایہ والنہایہ جلد ۴) جس کے لیے تم نکلے ہو۔ یعنی شہادت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader