Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

آخرت والے عمل سے دنیا کا فائدہ چاہنا

Urdu book, p. 239

By Maulana Wahiduddin Khan

آخرت والے عمل سے دنیا کا فائدہ چاہنا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور فتنے کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا وَقَلَّتْ فُقَهَاؤُكُمْ وَكَثُرَ قُرَّاؤُكُمْ تُفْتَتَحُ اس وقت دین کی سمجھ رکھنے والے کم ہو جائیں گے اور دین بِغَيْرِ الدِّينِ وَالتَمَسْتَ الدُّنْيَا بِعَمَلِ الآخِرَةِ کے پڑھنے والے بہت ہوں گے ۔ دین کو دنیا کے لئے پڑھا جائے گا (ترغیب و ترہیب) آخرت کے عمل کے ذریعہ دنیا چاہی جائے گی۔ امت مسلمہ کا بگاڑ یہ نہیں ہے کہ وہ دین کا نام لینا چھوڑ دے یا اس کے درمیان سے دینی شکلیں مٹ گئی ہوں۔ ایسا نہ پھلی امتوں کے ساتھ ہوا اور نہ امت مسلمہ کے ساتھ کبھی ہوگا۔ امت کا بگاڑ یہ ہے کہ دین کو دنیا کے لئے کیا جانے لگے ــــــــ دینی کام اس جذبہ کے تحت کئے جائیں کہ اس سے مال واولاد میں برکت ہوگی۔ دین وملت کے نام پر چندے وصول کئے جائیں اور ان کو ذاتی مفاد میں استعمال کیا جائے ۔ جاہ واقتدار کے ہنگامے کھڑے کئے جائیں اور اس کے لئے ڈبیل قرآن وسنت سے پیش کی جائے۔ آدمی خدا کے حرام وحلال سے بے نیاز ہو کر کمائے اور اس کے بعد جب وہ اپنا ایک مکان بنالے تو اس پر لکھ دے ھٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّی (یہ میرے رب کا انعام ہے) اس کی عملی زندگی کا دین سے کوئی تعلق نہ ہو اور جب اس کی خدا فراموش زندگی اس کو ایک کار کا مالک بنادے تو وہ اپنی گاڑی کے لئے '۷۸۶' نمبر حاصل کرے تاکہ اس کی گاڑی حادثہ سے محفوظ رہے۔ اس بگاڑ کی آخری صورت یہ ہے کہ آدمی خدا کے دین کی ایسی تشریح وتفسیر کرے کہ وہ دین جو آخرت کی چیاؤنی کے لئے آیا تھا وہ دنیوی اور سیاسی ہنگاموں کا عنوان بن جائے ۔ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں ہر طرف خدا اور مذہب کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ مگر حقیقی زندگیوں میں خدا اور مذہب کا کہیں وجود نہیں۔ مذہب پر تحریری مظاہر سے اور تقریری مشاعرے اتنی کثرت سے جاری ہیں کہ پچھلی تاریخ میں اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ مگر زمین و آسمان اس انسان کو دیکھنے کے لئے ترس رہے ہیں جو فی الواقع خدا سے ڈرتا ہو اور جس نے سنجیدگی کے ساتھ مذہب کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کیا ہو۔ لفظی قسم کے مذہبی پہلوانوں کے ہجوم میں حقیقی مذہبی پہلوان اس طرح نایاب ہے کہ ڈھونڈنے سے بھی کہیں نہیں ملتا۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ نہ انصاف اور انسانیت کے نور بند کرتے ہیں مگر عملاً صرف ذاتی مفاد کی سطح پر جی رہے ہیں کسی کا ذاتی مفاد پیسہ کمانا ہے اور کسی کا عزت ، شہرت، مرتبہ اور اقتدار حاصل کرنا۔ کوئی " نوٹ " جمع کرنے میں لگا ہوا ہے اور کوئی " ووٹ " کے مسائل میں الجھا ہوا ہے۔ کوئی گھر اور کاروبار کے دائرہ میں اپنے مستقبل کا خواب دیکھ رہا ہے، کوئی اسٹیج اور اخبار کی دنیا میں نمایاں ہونے کو اپنی تو جہات کا مرکز بنائے ہوئے ہے۔ خدا کی زمین ایسے انسانوں سے خالی نظر آتی ہے جو خدا کی یاد میں جیتے ہوں، جو آخرت کی فکر میں تڑپتے ہوں۔ جنھوں نے اپنے آپ کو انصاف کے ترازو پر کھڑا کر رکھا ہو۔ جن کے لئے دنیا ، اپنی تمام سرسبزی کے باوجود سرسبز نہ ہو بلکہ ایک وسیع قید خانہ بن گئی ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page