Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

آخرت والے عمل سے دنیا کا فائدہ چاہنا

Urdu book, p. 240

By Maulana Wahiduddin Khan

عن حارثة بن وہاب قال قال رسول اللہ صلی حارثہ بن وہاب کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ علیہ وسلم - الا أخبركم بملوك أهل کیا میں تمہیں بتاؤں کہ اہل جنت کے بادشاہ کون لوگ ہیں۔ الجنة قالوا بلی يا رسول اللہ - قال كل لوگوں نے کہا ہاں اے خدا کے رسول ۔ فرمایا: وہ جو کمزور ضعيف مستضعف أغبر أشعث ہو اور جس کو کمزور سمجھ لیا گیا ہو۔ گرد آلود اور بکھرے (متفق علیہ) وہ لوگ جو مصلحت پرستی کے بجائے اصول پسندی کو اپنا دین بناتے ہیں۔ جو دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح دیتے ہیں۔ جو مفاد کو اہمیت دینے کے بجائے حق کو اہمیت دیتے ہیں۔ جو بندوں کے بجائے خدا کو اپنی تو جہات کا مرکز بناتے ہیں ، ایسے لوگ اکثر اوقات دنیا میں بے جگہ ہو جاتے ہیں۔ وہ ان چیزوں میں سے کسی چیز کا ثبوت نہیں دے پاتے جن کی دنیوی اہمیت ہو اور جو دنیا میں آدمی کو باعزت بنانے والی ہوں۔ ان کی اس حالت کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ان کو بے حیثیت اور ناکام سمجھ لیتے ہیں۔ دنیوی نقشوں میں ان کو کہیں عزت کے مقام پر نہیں بٹھایا جاتا۔ مگر جب موجودہ دنیا کو توڑ کر آخرت کا عالم بنایا جائے گا تو اس کے اندر یہی لوگ سب سے زیادہ اونچا مقام حاصل کرلیں گے۔ وہی سب سے زیادہ کامیاب انسان قرار پائیں گے۔ آج کی دنیا کے بے زور کل کی دنیا میں بادشاہوں کی طرح زندگی گزاریں گے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے ڈکٹیٹرانہ نظام میں ایک جمہوری لیڈر ذلت اور گم نامی کے قید خانہ میں ڈال دیا جاتا ہے۔ مگر جب جمہوری حالات پیدا ہوتے ہیں اور عوامی رائے سے سیاسی مناصب کا فیصلہ ہوتا ہے تو وہی شخص اقتدار کی بلند ترین کرسی پر بیٹھا ہوا نظر آتا ہے جو کل تک ایک معمولی سپاہی کے آگے بھی بے زور دکھائی دے رہا تھا۔ وسلم يقول الدنيا ملعونة وملعون مافيها دنیا میں ہے وہ بھی۔ مگر اللہ کی یاد اور وہ چیز جو اس کے الا ذكر الله وما دالا ه د عالما ومتعلما قریب ہو اور عالم اور طالب علم۔ امام غزالی نے لکھا ہے کہ غورو فکر کو افضل عبادت اس لئے کہا گیا کہ اس میں ذکر (یاد الہی تو موجود ہوتا ہی ہے، اسی کے ساتھ اس میں دو چیزوں کا اور اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک اللہ کی معرفت ، کیونکہ غور و فکر معرفت کی کنجی ہے ، دوسرے اللہ کی محبت کہ وہ فکر سے پیدا ہوتی ہے۔ عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں ، اگر علم چاہتے ہو تو قرآن کے معانی پر غور کرو کہ اس میں اولین و آخرین کا علم ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page