خدا کا قانون
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
بظلم اولئك لهم الامن وهم مهتدون ایمان میں کوئی نقصان نہیں ملایا انہیں کے لیے (الانعام ۸۲) امن ہے اور وہی لوگ ہدایت پائے ہوئے ہیں۔ قرآن کی اس آیت میں ظلم سے مراد نقصان ہے۔ لغت عرب میں ظلم کا یہ مفہوم آتا ہے (لسان العرب) اور خود قرآن میں اس کا استعمال موجود ہے۔ سورہ الکہف میں دو باغ کا ذکر ہے۔ اس سلسلہ میں فرمایا کہ دونوں باغ خوب سرسبز و شاداب تھے۔ دونوں اپنا پھل لائے اور اس میں کچھ نہیں گھٹایا (الکہف ۳۳) اس دنیا میں ہر فائدہ والی چیز کے ساتھ نقصان کا پہلو لگا ہوا ہے۔ مثلاً تجارت ایک مفید چیز ہے۔ لیکن ایک تاجر اگر ایسا کرے کہ وہ تجارت کرنے کے ساتھ بری عادتوں میں بھی اپنے کو پھنسا لے۔ وہ اپنی پوری بکری کو اپنا نفع سمجھ لے۔ وہ اپنے گاہکوں کے ساتھ دادا گیری کرنے لگے۔ وہ اپنے اصحاب معاملہ سے وعدہ خلافی اور بددیانتی کا سلوک کرے۔ جو تاجر ایسا کرے وہ بہت جلد دیوالیہ ہو جائے گا، ایسا تاجر کبھی کامیاب تاجر نہیں بن سکتا۔ یہی معاملہ ایمان کا ہے۔ ایمان بے حد قیمتی چیز ہے۔ مگر ایمان کو اس کے نقصانات سے بچانا ہے۔ جو آدمی اپنے ایمان کو اس کے نقصانات سے نہ بچائے اس کا ایمان اس کو نفع پہنچانے والا نہیں۔ ایمان کا نقصان یہ ہے کہ آدمی کے سامنے حق آئے مگر وہ اس کا اعتراف نہ کرے۔ اس سے گناہ سرزد ہو مگر وہ توبہ نہ کرے۔ وہ اپنی توحید میں شرک کی ملاوٹ کر دے۔ اس کو امانت سونپی جائے تو وہ اس میں خیانت کرنے لگے۔ ایک عمل خیر اس کی استطاعت میں ہو مگر وہ اس کو انجام نہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader