Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

دنیا سے آخرت لینا

Urdu book, p. 277

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا سے آخرت لینا قرآن میں قارون کا قصہ بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ کی قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ پھر فرعون سے مل کر اس نے کافی دولت کمائی۔ اس کے خزانوں کا یہ حال تھا کہ ان کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اٹھا سکتی۔ اس دولت سے قارون کے اندر فخر اور گھمنڈ پیدا ہو گیا۔ اس وقت کچھ صالح بندوں نے اس کو نصیحت کی کہ دولت پر فخر نہ کر۔ اللہ نے تجھ کو جو کچھ دیا ہے اس سے آخرت کا طالب بن اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھول (وابتغ فيما آتاك الله الدار الآخرة ولا تنس نصيبك من الدنيا، القصص ، ۷۷) اس کی تفسیر کے سلسلہ میں مفسرین کے کچھ اقوال یہ ہیں : وقيل معناه واطلب بدنياك آخرتك اور کہا گیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی دنیا کے ذریعہ آخرت چاہو۔ کیونکہ یہی اس سے مومن کا حصہ ہے۔ (تفسیر النسفی) فان ذالك حظ المؤمن منها یعنی ما تحصل بها آخرتك فان حقيقةً یعنی دنیا سے وہ چیز لینا نہ بھولو جس سے تم اپنی نصیب الانسان من الدنيا ان يعمل آخرت حاصل کر سکو۔ دنیا سے انسان کا اصل للآخرة فان الدنيا مزرعة الآخرة۔ كذا حصہ یہ ہے کہ وہ آخرت کے لیے عمل کرے۔ کیوں کہ قال مجاهد وابن زيد۔ وقال السدى دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ مجاہد اور ابن زید کا نصيبك من الدنيا الصدقة وصلة الرحم قول یہی ہے۔ اور سدی نے کہا کہ دنیا سے وقال على رضى الله عنه لا تنس صحتك و تمہارا حصہ صدقہ اور صلہ رحمی ہے۔ اور عمل قوتك و شبابك وغناك ان تطلب علیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم اپنی صحت اور اپنی قوت الآخرة۔ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم اور اپنی جوانی اور اپنی دولت کے معاملہ میں یہ مت نس نصيبك من حباتك قال ن بھولو کہ تم اس کے ذریعہ سے آخرت چاہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page