دنیا سے آخرت لینا
Urdu book, p. 278
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے بڑھاپے سے پہلے اپنی جوانی کو۔ اور اپنی یعنی ما يكفيه ۔ محتاجی سے پہلے اپنی دولت مندی کو۔ اور حسن (التفسير المظہری) بصری نے کہا کہ یہاں یہ حکم دیا گیا ہے کہ حقیقی ضرورت کے بقدر مال روک کر ضرورت سے زیادہ کو آگے بھیجو ۔ موجودہ دنیا جو انسان کو دی گئی ہے، وہ آخرت کی کمائی کرنے کے لیے دی گئی ہے۔ جس شخص نے دنیا میں آخرت کے فائدہ والا کام کیا، اس نے دنیا سے آخرت کا حصہ لیا۔ اس کے برعکس جو شخص دنیا میں صرف دنیا کے فائدہ والا کام کرتا رہا۔ اس نے دنیا سے آخرت کا حصہ نہیں لیا۔ وہ موت کے بعد دوسری دنیا میں اس طرح پہنچے گا کہ وہاں اس کے لیے کچھ نہ ہوگا۔ یہ انجام صرف عام دنیا داروں کا نہیں ہوگا۔ یہی انجام ان لوگوں کا بھی ہو گا جو بظاہر دین والے کام کرتے ہیں۔ مگر اس سے ان کا مقصد دنیوی فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ دین کا کام کر کے اگر کوئی شخص مال، قیادت، شہرت، عزت، بڑائی چاہے تو اس نے بھی گویا دنیا سے اپنی آخرت کا حصہ نہیں لیا۔ وہ بھی آخرت میں اتنا ہی نامراد ہو گا جتنا بدنام قسم کے دنیا دار، بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader