Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

تنقید اور عملی کارروائی

Urdu book, p. 279

By Maulana Wahiduddin Khan

تنقید اور عملی کارروائی ایک صاحب نے کہا کہ آپ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں۔ اس سے امت میں تفریق پیدا ہوتی ہے۔ حالاں کہ آپ خود لکھ چکے ہیں کہ حضرت موسیٰ کی غیر موجودگی میں جب بنی اسرائیل بچھڑے کو پوجنے لگے تو حضرت ہارون نے خاموشی اختیار کرلی۔ تذکیر القرآن میں آپ نے لکھا ہے کہ بہت سے مواقع پر دین کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ باہمی لڑائی سے بچنے کے لیے خاموشی کا طریقہ اختیار کرلیا جائے، حتی کہ شرک جیسے معاملہ میں بھی (حصہ دوم صفحہ ۸۰) میں نے کہا کہ آپ نے میری بات کو غلط صورت میں نقل کیا۔ میں نے جو بات لکھی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ہارون نے بنی اسرائیل کی گمراہی پر لسانی اظہار تو پوری طرح کیا، مگر جب وہ اصلاح قبول کرنے پر راضی نہ ہوئے تو ان کے خلاف عملی کارروائی نہیں کی۔ گویا فکری تنقید تو ہر حال میں ضروری ہے۔ البتہ عملی اقدام حالات کے لحاظ سے کیا جائے گا۔ متعلقہ آیات کے سلسلہ میں یہاں صفوۃ التفاسیر (محمد علی الصابونی) سے دو حوالے نقل کیے جاتے ہیں: قال ابن ام ان القوم استضعفونی وکادوا ہارون نے کہا کہ اے میری ماں کے بیٹے، قوم یقتلونی، ای ان القوم استذلونی و قهرونی نے مجھ کو دبا لیا اور قریب تھا کہ مجھ کو مار ڈالیں" و لا تشمت بی اعداء الن قوم من ذالک ظالما یعنی قوم نے مجھ کو کمزور سمجھا اور مجھ پر غالب آگئی لم اقتر فی نصحهم اور میرے قتل کے قریب ہو گئی جب کہ میں نے (المجلد الاول، صفحه ۴۷۳) ان کو اس سے روکا۔ پس میں نے نصیحت میں کوتاہی نہیں کی۔ و انی خشیت ان تقول فرقت بین بنی "مجھے ڈر تھا کہ تم کہو گے کہ تم نے بنی اسرائیل اسرائیل، ای انی خفت ان زجر تهم کے درمیان پھوٹ ڈال دی" یعنی مجھے بالقوۃ ان يقع قتال بينهم اندیشہ ہوا کہ اگر میں انھیں طاقت سے روکوں المجلد الثانی، صفحه ۴۸۵ تو ان کے درمیان جنگ برپا ہو جائے گی تفریق امت سے بچنا ضروری ہے، مگر اس کا اعتبار عملی احتساب میں کیا جائے گا نہ نظری احتساب میں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page