Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

دو نمونے

Urdu book, p. 287

By Maulana Wahiduddin Khan

رضا ضاعفته له ) ، قال ابوالدحداح الانصاری یا رسول الله، وان الله ليريد منا القرض - قال نعم يا ابا الدحداح - قال ارنی یدك یا رسول الله - قال فناولہ یدہ - قال فإنی قد اقرضت ربی حائطی - و لہ حائط فیہ ست مائة نخلة و ام الدحداح فیہ وعیالھا - قال فجاء ابو الدحداح فناداھا یا ام الدحداح - قالت لبیک - قال اخرجی فقد اقرضتہ ربی عزوجل - فقالت لہ ربح بیعك یا ابا الدحداح ونقلت منہ متاعھا و صبیانھا ۔ ( تفسیر ابن کثیر، الجزء الرابع ، صفحه ۳۰۷ ) سن کر حضرت ابو الدحداح نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا اللہ ہم سے قرض چاہتا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں اے ابو الدحداح۔ انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، مجھے اپنا ہاتھ دکھائے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا ۔ انھوں نے کہا کہ پھر میں نے اپنا باغ اپنے رب کو قرض میں دے دیا۔ اور ان کا ایک باغ تھا جس میں چھ سو کھجور کے درخت تھے ۔ اس وقت ان کی بیوی ام الدحداح اپنے بچوں کے ساتھ اس میں تھیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ ابو الدحداح آئے اور آواز دی کہ اے ام الدحداح۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ ابو الدحداح نے کہا کہ اس باغ سے نکلو۔ کیوں کہ وہ میں نے اپنے رب کو قرض میں دے دیا ۔ ام الدحداح نے کہا کہ اے ابو الدحداح، آپ کا سودا کامیاب رہا۔ اور اپنا سامان اور بچے لے کر وہاں سے چلی آئیں۔ قرآن کی جو آیت اوپر نقل کی گئی ہے ، وہ انھیں الفاظ کے ساتھ یہود کے سامنے آئی ۔ اور ٹھیک انھیں الفاظ کے ساتھ ابو الدر دار انصاری کے سامنے آئی ۔ مگر دونوں کا رد عمل ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی کلام کو صحیح طور پر سمجھنے اور اس کا صحیح جواب دینے کے لیے سنجیدگی ضروری ہے ۔ اگر آدمی سنجیدہ نہ ہو تو وہ نہ خدا کے کلام کے ساتھ انصاف کر سکتا ہے اور نہ انسان کے کلام کے ساتھ ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page