آدمی کی جانچ
Urdu book, p. 288
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی کی جانچ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ظاہری چیزوں کو سامنے رکھ کر اصل حقیقتوں کو پردہ کے پیچھے چھپا دیا گیا ہے۔ اب آدمی کی جانچ یہ ہے کہ وہ ظاہر سے گزر کر باطن تک پہنچ جائے ۔ وہ شہود سے بلند ہو کر غیب کو دیکھ لے۔ وہ چھپی ہوئی حقیقتوں کو اس طرح جان لے جیسے کہ وہ اس کی آنکھوں کے سامنے کھلی ہوئی حالت میں موجود ہیں۔ ہمارے سامنے ایک پردہ پڑا ہوا ہے۔ اور آدمی کا امتحان اس میں ہے کہ کون پردہ کو پھاڑ کر پردہ کے دوسری طرف دیکھ لیتا ہے اور کون پردہ کے اُس پار دیکھنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔ آدمی کی کامیابی یہ ہے کہ وہ ظاہر میں الجھے بغیر باطن تک پہنچ جائے ۔۔۔۔۔۔۔ ایک چیز جو بظاہر خرید کر مل رہی ہے اس کو بطور عطیہ ملنے والی چیز سمجھنا، ایک چیز جو بازار سے مل رہی ہے اس کو کائناتاتی خزانہ سے ملنے والی چیز سمجھنا، ایک چیز جو بظاہر ہر انسان سے مل رہی ہے اُس کو خدا سے ملنے والی چیز سمجھنا، اسی کا نام ایمان بالغیب ہے۔ اور وہی شخص صاحب معرفت ہے جس کو ایمان بالغیب کا یہ درجہ حاصل ہو جائے۔ جینے کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک ہے اندھا بن کر جینا، ایک ہے آنکھ والا بن کر جینا۔ موجودہ دنیا میں یہی امتحان ہے کہ کون شخص کس طرح جیتا ہے۔ جو شخص آج کی امتحان گاہ میں اندھا بن کر جئے گا وہ آئندہ آنے والی مستقل دنیا میں ہمیشہ اندھا ہو کر بھٹکتا رہے گا۔ جو شخص آج کی امتحان گاہ میں بینا بن کر جئے گا وہ آئندہ کی دنیا میں آنکھوں والا ہوگا۔ دنیا کی تمام نعمتیں مزید اضافہ کے ساتھ اس کو ابدی طور پر دے دی جائیں گی ۔ (ومن كان في هذه أعنى فهو في الآخرة أعمى وأضل سبيلاً) آپ کھانے کے دسترخوان پر بیٹھے ہیں۔ آپ کے سامنے میز پر دودھ اور گوشت اور پھل رکھا ہوا ہے۔ اب ایک شخص وہ ہے جو اس کو بس ”بازار سے خریدی ہوئی چیز “ سمجھ کر کھانا شروع کر دے غفلت اور بے فکری کے ساتھ کھا کر ڈکار لے اور پھر دوبارہ اپنے غفلت کے مشغلوں میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader