Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

آدمی کی جانچ

Urdu book, p. 289

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ اندھے شخص کا کھانا ہے۔ کیوں کہ دودھ اور گوشت اور پھل ”بازار سے خریدی ہوئی چیز“ نہیں، وہ قدرت کے عظیم شاہکار ہیں۔ ساری کائنات کے ناقابل بیان عمل کے بعد یہ ممکن ہوا ہے کہ زمین پر دودھ اور پھل اور گوشت موجود ہو اور انسان اس کو کھا کر بھوک مٹائے اور قوت اور زندگی حاصل کرے۔ دوسرا شخص وہ ہے کہ جب اس کے سامنے دودھ اور گوشت اور پھل آیا تو اس کو دیکھتے ہی اس کے ذہن نے سوچنا شروع کیا۔ اچانک اس پر منکشف ہوا کہ یہ قدرت کے کارخانہ کی مصنوعات ہیں۔ خدا کی زندہ فیکٹری (گائے بھینس) گھاس چرتی ہے اور اس کو دودھ اور گوشت میں تبدیل کرتی ہے۔ درخت زمین سے اور فضا سے مٹی اور پانی اور گیسیں لیتا ہے اور اس کو پھول اور پھل میں تبدیل کرتا ہے۔ پھر اور آگے بڑھ کر جب وہ سوچتا ہے کہ ان فیکٹریوں کا قیام کیسے ممکن ہوا تو اس کے سامنے پوری کائنات کا نظام آ جاتا ہے۔ اس کو دکھائی دیتا ہے کہ ایک لامحدود کائنات کھرب ہا کھرب سال تک گردش کرتی رہی تب موجودہ دنیا کا نظام قائم ہوا۔ موجودہ دنیا اپنی تمام وسعتوں کو لیے ہوئے کامل ہم آہنگی کے ساتھ مساعدت کرتی ہے اس کے بعد یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی درخت پھل دے اور کوئی جانور دودھ اور گوشت تیار کرے۔ یہ سب سوچ کر اس کے اندر ایک عجیب تھرتھراہٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس کے بعد جب وہ دودھ یا گوشت یا پھل اپنے منہ میں ڈالتا ہے تو اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خدا کی ایک بے پایاں نعمت کو اپنے منہ میں ڈال رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں آدمیوں کا کھانا ایک نہیں، اس لیے دونوں آدمیوں کا انجام بھی ایک نہیں۔ جس طرح پتھر کھانے والے کا انجام اور پھل کھانے والے کا انجام ایک نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح ان دو آدمیوں کا انجام بھی ایک نہیں ہو سکتا جن میں سے ایک نے اندھے پن کے ساتھ کھایا ہو اور دوسرے نے آنکھ والا بن کر کھایا ہو (قل هل تستوى الاعمى والبصير و هل تستوى الظلمات والنور) اندھوں کے لیے دوزخ ہے اور آنکھ والوں کے لیے جنت۔ آدمی نے جو چیز دنیا میں پائی ہے وہی وہ آخرت میں بھی پائے گا، نہ اس سے زیادہ اور نہ اس سے کم۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page