منافقت
Urdu book, p. 290
By Maulana Wahiduddin Khan
منافقت ایک لمبی حدیث ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ موت کے بعد انسان کے اوپر کیا احوال گزریں گے ۔ اس سلسلہ میں حدیث کا ایک جز یہ ہے : وان كان کافرا اومنافقاً يقول له ما نقول اگر مرنے والا منکر یا منافق ہے تو فرشتہ اس سے فی ھذا الرجل ۔ فیقول لا ادری ۔ سمعت پوچھے گا کہ تم اس آدمی (پیغمبر) کے بارہ میں کیا الناس يقولون شيئا فيقول لادريت ولا کہتے ہو۔ وہ جواب دے گا کہ میں نہیں جانتا۔ تليت ولا اهتديت ۔ ثم يفتح له میں نے لوگوں کو سنا کہ وہ کچھ کہہ رہے تھے۔ پھر وہ بابا الى الجنة فيقول له هذا منزلك کہے گا کہ میں نے اس کو جاننے کی کوشش نہیں کی۔ لو امنت برتبک ۔ فاما اذا كفرت به نہ میں نے اس کی پیروی کی اور نہ میں نے اس سے فان الله عزوجل ابدلك به هذا رہنمائی حاصل کی ۔ پھر اس کے لیے جنت کی طرف فيفتح له بابا الى النار۔ ایک دروازہ کھولا جائے گا ۔ پھر فرشتہ اس سے (تفسیر ابن کثیر، الجزء الثانی، صفحه ۵۳۳) کہے گا کہ یہ تمہاری جگہ تھی اگر تم اپنے رب پر ایمان لاتے ۔ مگر جب تم نے اس کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے تمہیں یہ دیدیا ۔ پھر اس کے لیے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جائے گا۔ اس حدیث میں مرنے کے بعد جس انجام کا ذکر ہے، اس میں کافر کے ساتھ منافق کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔ منافق کا لفظ پہلی بار مدینہ میں استعمال کیا گیا ۔ وہاں کون لوگ تھے جن کو منافق کہا گیا ۔ یہ وہ لوگ تھے جو کلمہ کا اقرار کرتے تھے ۔ نماز اور دوسری عبادات پر بظاہر عمل کرتے تھے ۔ البتہ ان کے دل میں ایمان پوری طرح نہیں اترا تھا۔ وہ ان موقع پر پیچھے رہ جاتے تھے جہاں قربانی کی قیمت پر اپنے ایمان کا ثبوت دینا ہو۔ وہ مصلحت کی سطح پر مسلمان بنے تھے نہ کہ حقیقہً قلبی شہادت کی سطح پر۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader