قرآن جامع العلوم ہے
Urdu book, p. 300
By Maulana Wahiduddin Khan
عذاب مھین ۔ واذا تتلیٰ علیہ آیتنا ولی مستکبراً کان لم يسمعها كان في أذنية وقراً فبشرة بـعذاب الیم (لقمان (۷-۶) اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے کہ مول لیتا ہے غافل کرنے والی بات کو تاکہ اللہ کی راہ سے لیے سمجھے بھٹکا دے اور اس کی مہنسی اُڑائے۔ ایسے لوگوں کے لئے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔ اور جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ گھمنڈ کے ساتھ اس طرح منہ موڑ لیتا ہے جیسے اس کو سنا ہی نہیں۔ جیسے اس کے کان بہرے ہیں۔ اس کو خبر دے درد ناک والے عذاب کی ۔ اس آیت میں لہو الحدیث سے کیا مراد ہے۔ اس سلسلے میں بعض واقعات تفسیر کی کتابوں میں آئے ہیں عبداللہ بن مسعود رضیٰ نے اس کی تفسیر غنار سے کی ہے اور ضحاک نے شرک سے (ابن کثیر) مگر مفسرین کے اصول کے مطابق ، اس کا شان نزول گو خاص ہوتا ہے تاہم عموم الفاظ کی وجہ سے اس کا حکم عام رہے گا۔ جو لہو یا شغل بھی سبیل اللہ سے ہٹانے کا سبب بنے وہ سب درجہ بدرجہ اس میں شامل ہوگا۔ ابن جریر نے کہا ہے کہ ہر وہ کلام لہو الحدیث ہے جو اللہ کی آیتوں سے روکے اور اس کے راستہ کے اتباع سے ہٹائے (کل کلام یصد عن آیات اللہ و اتباع سبیلہ) حسن بصری نے کہا کہ ہر وہ چیز لہو الحدیث ہے جو اللہ کی عبادت اور اس کی یاد سے ہٹانے والی ہو مثلاً فضول قصہ گوئی، ہنسی مذاق کی باتیں، بے کار مشغلے، گانا بجانا وغیرہ (کل ما شغل عن عبادۃ اللہ وذكره من السمعی والا ضاحيث والخرافات والغناء ونحوها، روح المعانی) موجودہ زمانہ میں کون سی چیزیں ہیں جو لہو الحدیث کا مصداق ہیں ۔ وہ تمام تفریحی تماشے اور دو ستا لٹریچر اس میں شامل ہے جو اپنی سنسنی خیزی اور رومانیت کی وجہ سے لوگوں کے لئے ذہنی شراب بنا ہوا ہے۔ اس میں وہ مقدس حلقے بھی شامل ہیں جنھوں نے بناوٹی قصے کہانیوں کی ایک مذہبی طلسم ہوش ربا تیار کر رکھی ہے اور اس کو سننا سنا کر لوگوں کو مدہوش رکھتے ہیں۔ وہ شعر و شاعری اور خطابت بھی اس میں شامل ہے جو لفظ بازی کے کرتُب دکھا کر لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اس میں وہ سیاسی تحریکیں بھی شامل ہیں جو سیاست کی چاشنی تقسیم کرکے لوگوں کو اپنی طرف مائل کئے ہوئے ہیں۔ پھر اس میں وہ تمام مذہبی مناظرے بھی شامل ہیں جو لوگوں کے ذہنوں کو غیر متعلق بحثوں میں الجھا کر سوادِ اعظم سے دور کر دیتے ہیں۔ غرض وہ تمام آوازیں جو عوامی دل چسپی کا سامان پیدا کر کے لوگوں کو حق کا سفر اور دعوت سے ہٹائی اور اللہ کی رسی کو چھوڑ دے دین سے بے رغبت کرو ائے وہ سب درجے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader