Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

غلط استدلال

Urdu book, p. 301

By Maulana Wahiduddin Khan

غلط استدلال امام بخاری نے اپنی ’’صحیح‘‘ میں کتاب الدعوات (باب اذا بات طاهراً) میں البراء بن عازب رضی اللہ عنہ کی ایک روایت نقل کی ہے۔ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ تم سونے کے لیے بستر پر جاؤ تو کس طرح سوؤ اور اس وقت کون سی دعا پڑھو۔ یہ ایک لمبی روایت ہے۔ اس کا آخری حصہ یہ ہے : آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے اتاری اور تیرے أَرْسَلْتَ ۔ فَإِنْ مُتَّ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ ۔ وَاجْعَلْهُنَّ نبی پر جس کو تو نے بھیجا۔ اس کے بعد اگر تم مرو گے تو تم فطرت آخِرَ مَا تَقُولُ ۔ فَقُلْتُ اسْتَذْكِرُهُنَّ : وَبِرَسُولِكَ پر مرو گے۔ اور تم اس قول کو آخری قول بناؤ۔ راوی کہتے ہیں الَّذِي أَرْسَلْتَ ۔ قَالَ لَا - وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي کہ پھر میں نے یاد کرتے ہوئے دہرایا: وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ۔ اَرْسَلْتُ ۔ آپ نے کہا کہ نہیں ۔ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ اس واقعہ کی بنیاد پر کچھ لوگوں نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ حدیث بالمعنیٰ کی روایت جائز نہیں (لا يجوز رواية الحديث بالمعنیٰ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دعا سکھائی تھی اس میں بِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ کا لفظ تھا۔ صحابی نے اس کو دہرایا تو ان کی زبان سے بِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتُ نکل گیا ۔ دونوں کا مطلب ایک تھا مگر لفظ میں فرق ہو گیا تھا ۔ آپ نے اس لفظی فرق کو گوارا نہیں کیا۔ بلکہ خود اپنے کہے ہوئے لفظ ہی کو دہرانے کی تاکید فرمائی ۔ اس سے یہ نکلا کہ روایت بالمعنیٰ کا طریقہ صحیح نہیں، بلکہ لفظ کی تبدیلی کے بغیر بعینہ روایت کرنا ضروری ہے۔ اگر اس دلیل کو مان لیا جائے تو احادیث کا بیشتر ذخیرہ قابلِ رد ٹھہرے گا ۔ کیوں کہ بیشتر حدیثوں کی حیثیت روایت بالمعنی ہی کی ہے۔ مگر یہ استدلال بذات خود درست نہیں ۔ یہ حدیث کو اس کے اصل مفہوم سے ہٹا کر اس کا ایک غلط مفہوم بیان کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث کا تعلق اس مسئلہ سے نہیں ہے کہ روایت بالمعنی صحیح ہے یا روایت باللفظ ۔ اس کا تعلق تمام تر ایک ادبی مسئلہ سے ہے۔ بر رسول الذی ارسلت میں لفظی تکرار کی وجہ سے ایک ادبی نقص پیدا ہو رہا تھا۔ اس لیے آپ نے بنبیک الذی ارسلت کہنے کے لیے فرمایا جو ادبی اعتبار سے زیادہ بہتر ہے۔ ــــــــ اس دنیا میں خدا اور رسول کے کلام کو بھی غلط مفہوم دیا جا سکتا ہے۔ پھر ایک انسان کے کلام سے غلط مفہوم نکالنا کیوں کر ممکن نہ ہوگا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page