Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

ایک آیت

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک آیت قرآن میں ارشاد ہوا ہے ــــــ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کا گمان ہے کہ وہ قرآن پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ مگر وہ چاہتے ہیں کہ طاغوت سے اپنے معاملہ کا فیصلہ کرائیں۔ حالانکہ انھیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ شیطان انھیں بھٹکا کر بہت دور کر دینا چاہتا ہے۔ (النسا ۶۰) کچھ لوگ اس آیت کی تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ: "یہاں صریح طور پر طاغوت سے مراد وہ حاکم ہے جو قانون الہی کے سوا دوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہو۔ اور وہ نظام عدالت جو نہ تو اللہ کے اقتدار اعلی کا مطیع ہو اور نہ اللہ کی کتاب کو آخری سند مانتا ہو۔ لہذا یہ آیت اس معنی میں بالکل صاف ہے کہ جو عدالت طاغوت کی حیثیت رکھتی ہو اس کے پاس اپنے معاملات فیصلہ کے لئے لے جانا ایمان کے منافی ہے۔ خدا اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ آدمی ایسی عدالت کو جائز تسلیم کرنے سے انکار کردے"۔ اس تشریح کے بعد فوراً یہ لوگ دوسرا نتیجہ یہ نکال لیتے ہیں کہ مسلمان کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ مشرکانہ اور کافرانہ نظام حاکمیت کو توڑنے اور اسلام کی بنیاد پر حاکمیت کا نظام قائم کرے تاکہ اس کے لئے اپنے معاملات میں خدائی قانون کے مطابق فیصلہ لینا ممکن ہو سکے۔ اس قسم کے "انقلابی" نظریہ کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ قرآن کے ایک سادہ اور عام حکم کو غلط طور پر سیاسی معنی پہنانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ آیت مسلمانوں کے انفرادی دینی تقاضوں کو بیان کر رہی ہے نہ کہ مذکورہ معنی میں اجتماعی انقلاب کا سیاسی سبق دیتی رہی ہے۔ ہندوستان کے پس منظر میں اس آیت کو نہایت آسانی کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے۔ آج ہر جگہ یہ صورت حال ہے کہ مسلمانوں کے درمیان آپسی جھگڑے برپا ہیں۔ کوئی بستی اور کوئی محلہ اس قسم کے باہمی جھگڑوں سے خالی نہیں ہے۔ ان جھگڑوں کو نٹپانے کے لئے مسلمانوں کا طریقہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہر ایک پہلی فرصت میں اپنے جھگڑے کو ملک کی عدالت میں لے جاتا ہے جس کو وہ اپنے عقیدے کے مطابق کافر اور مشرک عدالت سمجھتا ہے۔ مگر اس سے بے پرواہ ہو کر ہر ایک انھیں عدالت کی طرف بھاگ رہا ہے۔ اور اس میں اپنے وقت اور اپنے مال کا بہترین حصہ خرچ کر رہا ہے۔ قرآن کی مذکورہ آیت اسی روش کے خلاف مسلمانوں کو تنبیہہ کر رہی ہے۔ اس میں ان لوگوں پر نکیر ہے جو خدا کی کتاب کے آگے نہیں جھکتے البتہ طاقت کے آگے جھک جاتے ہیں خواہ وہ طاغوت ہی کیوں نہ ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page