بگاڑ کیسے آتا ہے
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
بگاڑ کیسے آتا ہے یہود کی گمراہی کی تھی جس کی وجہ سے وہ خدا کے غضب کے مستحق ہوگئے، وہ یہ نہ تھی کہ انہوں نے دین کا نام لینا یا دینی مراسم پر عمل کرنا چھوڑ دیا تھا۔ ظاہری دین داری ان کے یہاں بڑے پیمانہ پر جاری تھی۔ ان کی گمراہی قرآن کے الفاظ میں یہ تھی کہ انہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی (بقره ۸۰) ان کے یہاں خدا کے نبیوں کا چرچا تھا اور خدا کے دین کے نام پر ہنگامے جاری تھے۔ مگر یہ سب کچھ آخرت کے لئے نہیں بلکہ دنیا کے لئے تھا۔ وہ چیز جس کو دے کر آخرت ملتی ہے، اس کو انہوں نے دنیا حاصل کرنے کا سستا سودا بنا لیا تھا۔ وہ دین کے نمائش کاموں کا مظاہرہ کرتے تھے مگر اپنی حقیقی عملی زندگی میں دنیا کو ترجیح دے ہوئے تھے۔ یہود کی قدیم مذہبی کتابوں میں ان کی جو تصویر ملتی ہے وہ اس قرآنی بیان کی پوری تفسیر ہے۔ تو رات میں یہود کی قومی ترقی یا ان کی قومی تباہی تفصیل سے ملے گی۔ مگر پوری کتاب پڑھ جائیے اور آپ کو کہیں آخرت کی کامیابی اور ناکامی کا ذکر نہیں ملے گا۔ ان کی مقدس کتابوں کا خلاصہ صرف یہ نظر آتا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مذہب کے طریقہ پر چلو تاکہ تم کو دنیا کی کامیابی حاصل ہو، قوم کو اقتدار ملے۔ یہود ایک عزیز اور سر بلند قوم بن جائیں۔ یہ صرف یہود کی خرابی نہیں۔ کتاب آسمانی کی حامل کسی قوم میں جب بگاڑ آتا ہے تو اس کی حالت یہی ہو جاتی ہے۔ اس کے افراد کی ذاتی زندگی اور اس کی جماعتوں کی عمومی سرگرمیاں دنیا کے رخ پر چل پڑتی ہیں، مگر اسی کے ساتھ خدا اور رسول کا چرچا اس طرح جاری رہتا ہے گویا یہ سب کچھ صرف آخرت کے لئے کیا جا رہا ہے۔ ان کے دین کا بے حقیقت ہونا اس وقت باطل واضح ہو جاتا ہے جب کہ ان کی اپنی ذات کی سطح پر ان کی دین داری کا تجربہ کیا جائے۔ وہ اگرچہ خدا کی کتاب کے حوالے سے دوسروں کو نیکی کی نصیحت کر رہے ہوتے ہیں مگر ان کے افراد کی اپنی زندگیاں اس نیکی سے خالی ہوتی ہیں (بقره (۴۴)۔ ان کا ایک دواعظ لوگوں سے کہے گا کہ خدا سے ڈرو۔ لیکن جب اس کا معاملہ کسی ایسے شخص سے پڑ جائے گا جہاں خود اس کو خدا سے ڈرنا چاہئے تو وہ اس کے ساتھ ایسا معاملہ کرے گا جیسے کہ اس کا دل بالکل اللہ کے خوف سے خالی ہے۔ اس کا ایک مقرر دوسروں کو اخلاق اور انسانیت کا سبق دے گا۔ لیکن اگر ایک شخص مقرر پر تنقید کر دے تو وہ فوراً بگھڑ اٹھے گا اور اپنے ناقد کے خلاف ہر قسم کے غیر انسانی سلوک کو اپنے لئے جائز قرار دے گا۔ اس کا ایک مصلح دوسروں سے کہے گا کہ خدا کے دین کے لئے جیو اور خدا کے دین کے لئے مرو لیکن اگر کسی سے اس کو ٹھیس پہنچ جائے تو وہ بھڑک کر اس کے خلاف ایسے اقدامات کرے گا گویا کہ وہ شیطان کا ساتھی بنا ہوا ہے اور فرضی طور پر خدا کا درس دے رہا ہے۔ ان کا قائد مظلوم ملت کے مسائل حل کرنے کے لئے پر شور تقریریں کرے گا مگر مظلوم فرد کی دادرسی سے اس کو کوئی دل چسپی نہ ہوگی۔ ہدایت پر صرف وہ شخص ہے جس نے اپنے آپ کو ہدایت کی لگام دے رکھی ہے۔ جو دوسروں سے کوئی بات کہنے سے پہلے اپنا بے لاگ محاسبہ کر کے دیکھتا ہے کہ کیا وہ خود اس پر قائم ہے جس کی توجہ آخرت کی طرف ہے نہ کہ دنیا کی طرف ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader