Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

کہنے اور کرنے کا فرق

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

کہنے اور کرنے کا فرق قرآن میں شاعروں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جن کو وہ کرتے نہیں (شعراء ۲۲۶) شاعری کے طور پر بات کہنے کی یہ کمزوری کبھی خود اہل دین میں پیدا ہو جاتی ہے ۔ وہ دین وملت کے بارے میں تقریریں کرتے ہیں اور کتابیں چھاپتے ہیں ، مگر دین ان کا حقیقتی علی فیصلہ نہیں ہوتا ۔ " اے ایمان والو ایسی بات کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ۔ اللہ کے نزدیک یہ بات بہت ناراضی کی ہے کہ ایسی بات کہو جو تم کرو نہیں (صف ۳) آدمی جب بولتا ہے تو اس کی دو صورتیں ہوتی ہیں ۔ ایک یہ کہ اس کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ اس کی حقیقی عملی زندگی کا ایک اظہار ہوں ، جس طرح بھاپ ایک گرم پانی کا اظہار ہوتی ہے یا دھواں کسی جلتی ہوئی چیز کا ایک نتیجہ ہوتا ہے ۔ ایسا آدمی جب بولتا ہے تو وہ اپنے اندرون کا ٹینڈل رہا ہوتا ہے ، اس کے الفاظ عام معنوں میں صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ یہ اس کی اپنی ہستی ہوتی ہے جو لفظوں کی صورت میں ڈھل رہی ہوتی ہے ۔ اس کا ایک تجزیہ ہوتا ہے کہ اس کے الفاظ میں انتہائی واقعیت پیدا ہو جاتی ہے ۔ وہ مصنوعی تصویر کی خرابیوں سے پاک ہوتی ہے ۔ اس کے بیانات میں کیمرہ کے فوٹو کی طرح حقیقی عکاسی کی شان آجاتی ہے ۔ دوسری طرف یہ ہوتا ہے کہ وہ جو کچھ ہوتا ہے وہ خود بھی یہی ہوتا ہے ۔ اس لئے جب کسی انسان کی اس کے ساتھ عملی تجربہ پیشی آتا ہے تو وہ اس میں کوئی تضاد نہیں پاتا ۔ بولنے والا اگر اسٹیج پر ترقی ہمدردی کے الفاظ بول رہا تھا تو عملی تجربہ میں بھی وہ ملت کا ہمدرد ثابت ہوتا ہے ۔ اگر وہ احتساب نفس پر وعظ کر رہا تھا تو موقع پڑنے پر وہ خود بھی اپنی ذات کا حساب لینے والا ثابت ہوتا ہے ۔ اگر وہ عہد و پیمان کی پختگی کی تلقین کر رہا تھا تو جب امتحان کا وقت آتا ہے تو وہ خود بھی عہد و پیمان کو پورا کرنے والا ثابت ہوتا ہے ۔ اگر وہ انصاف اور انسانیت کا پر چار کر رہا تھا تو عملی تجربہ میں وہ ایک ایسا شخص ثابت ہوتا ہے جو خود بھی معاملہ کے وقت انصاف اور انسانیت پر قائم رہنے والا ہو۔ اس کے برعکس دوسرا آدمی وہ ہے جس کا اسلام پر بولنا شاعروں جیسا بولنا ہو ، اس کی زبان الگ ہوتی ہے اور اس کی عملی زنگ الگ ۔ اس کی باتوں میں وہ گہرائی نہیں ہوتی جو صرف ایک مطابق واقعہ کلام میں ہوا کرتی ہے ۔ اس کا کلام ایک قسم کی شاعری ہوتا ہے نہ کہ حقیقت بیانی رکھنے یا بولنے کے وقت تو وہ " اسلامی " نظر آتا ہے لیکن اگر کوئی نازک معاملہ پڑ جائے تو فوراً اس کی اصل ہستی ننگی ہو کر سامنے آ جاتی ہے ۔ وہ شخص جس نے اسٹیج پر انسانیت کا دعوی کیا تھا ، عملی تجربہ میں وہ انسان کی صورت میں بھیڑیا ثابت ہوتا ہے ۔ وہ جس ملت کی ہمدردی کی باتیں کر رہا تھا ، حقیقی معاملہ میں اسی ملت کے ایک فرد کا دشمن بن جاتا ہے ۔ وہ خوف خدا اور فکر آخرت کی باتیں کر رہا تھا مگر عملی تجربہ کے وقت معلوم ہوتا ہے کہ اس کے سینہ میں ایک بالکل بے خون دل ہے جس کو آخرت اور حساب کتاب کی مطلق کوئی فکر نہیں ۔ شاہی والا اسلام موجودہ دنیا میں کسی کو کچھ فائدہ دے سکتا ہے ۔ یہاں اسلامی مشاعرہ کی مجلسوں میں اس کو داد مل سکتی ہے ۔ مگر ایسے اسلام کی خدا کے یہاں کوئی قیمت نہ ہوگی ۔ خدا کو الفاظ سے نہیں حقیقت سے دل چسپی ہے ۔ اس کو وہ شاعر مطلوب ہے جو آخرت کا ٹکٹ خریدنے سے اپنی شاعری کو اٹھا لے جائے ۔ اس کو وہ اد اور مطلب جس کا رقص روح کو پگھلا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page