Urdu book · قیادت نامه

قرآن وسنت کی رہنمائی

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن وسنت کی رہنمائی اسلام کے نزدیک تمام مسجدیں یکساں ہیں، خواہ کوئی چھوٹی مسجد ہو یا کوئی بڑی مسجد، خواہ وہ کسی معمولی آدمی کی بنوائی ہوئی ہو یا کسی بادشاہ کی بنوائی ہوئی۔ اس میں صرف تین مسجدوں کا استثناء ہے۔ بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صرف تین مسجدیں ہیں جن کے لیے سفر کرنا درست ہے۔ مکہ کی مسجد حرام، مدینہ کی مسجد نبوی، اور فلسطین کی مسجد اقصی (لا تشد الرحال الا الى ثلاثة مساجد : المسجد الحرام، ومسجد الرسول، المسجد الاقصى - وفي رواية : انما يُسافَرُ الى ثلاثة مساجد مسجد الكعبة ومسجدی ومسجد ايلياء) اس حدیث کی تشریح محدثین نے یہ کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے تقرب کی نیت سے کسی مقام کا قصد نہیں کیا جائے گا، سوا ان تین مقامات کے، ان کی عظمت اور شرف کی وجہ سے ( والمراد لا يقصد موضع من المواضع بنية العبادة والتقرب الى الله تعالى الا الى هذه الاماكن الثلاثة تعظيما لشائها وتشريفًا) معلوم ہوا کہ مذکورہ تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور مسجد کے لیے اسلام میں شَدِّ رحال کی اجازت نہیں ہے۔ یہ امتیازی حیثیت صرف تین مسجدوں کو حاصل ہے کہ خاص اس میں عبادت کرنے کے مقصد سے آدمی وہاں کا سفر اختیار کر سکتا ہے۔ دوسری تمام مسجدوں میں عبادت کا ثواب یکساں ہے، جیسا ایک مسجد میں ویسا ہی دوسری مسجد میں۔ البتہ مذکورہ تین مسجدوں میں عبادت کا ثواب استثنائی طور پر زیادہ ہے۔ ان تین مسجدوں کے سوا کسی اور مسجد کی نہ کوئی امتیازی حیثیت ہے اور نہ ان کے علاوہ کسی اور مسجد کے لیے خصوصی طور پر عبادتی سفر کرنا جائز ہے۔ مذکورہ شرعی حکم " عبادتی سفر" کے لیے ہے۔ اب اگر کچھ مسلمان ایک عام مسجد کی طرف کفن بر دوش ہو کر سفر کریں۔ وہ کہیں کہ ہم جو مارچ کر رہے ہیں وہ عبادتی مارچ نہیں ہے۔ ہم تو مسجد کے غاصبوں سے مسجد کو واگذار کرنے کے لیے ان کے اوپر پر امن جمہوری چڑھائی کر رہے ہیں، تو یہ اور بھی زیادہ غلط ہوگا۔ کیوں کہ ایک مسجد کے لیے عبادتی شَدِّ رحال اگر بدعت ہو، تو غیر مسلح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page