Urdu book · قیادت نامه

قرآن وسنت کی رہنمائی

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمانوں کا اس کے مسلح غاصبوں سے ٹکرانے کے لیے اقدام کرنا سراسر حرام ہے۔ اگر نارمل حالات ہوں اور سفر کے ساتھ جان ومال کے نقصان کا اندیشہ وابستہ نہ ہو تب بھی تین مسجدوں کے سوا کسی مسجد کے لیے شدِ رحال جائز نہیں۔ لیکن اگر غیرمعمولی حالات ہوں اور سفر کر کے مسجد تک پہنچنے میں مسلمانوں کی جان ومال کا خطرہ پیدا ہو گیا ہو تو اس وقت معاملہ مزید نازک ہو جاتا ہے۔ ایسی حالت میں فضیلت والی مسجدوں کے لیے سفر کرنا بھی غیر مطلوب بن جائے گا، اور دوسری مسجدوں کی طرف پر خطر مارچ کرنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ جہاں تک اس دوسرے معاملے کی نوعیت کا سوال ہے، اس کی مثال ہم کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ملتی ہے۔ سنہ ۵ ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تقریبا ڈیڑھ ہزار اصحاب کے ساتھ مدینے سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے تاکہ وہاں پہنچ کر عمرہ ادا کریں۔ آج کل کی زبان میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ نے مکہ کی طرف پر امن مارچ کیا۔ یہ مقدس قافلہ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام تک پہنچا تھا کہ مکہ کے منکرین نے آپ کو آگے بڑھنے سے روکا۔ وہ آپ سے لڑنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اس وقت اللہ تعالی نے آپ کی سواری حدیبیہ کے مقام پر روک دی (حبسها حابس الفيل)، اللہ تعالی کے حکم کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ سے اعراض فرمایا اور قریش کی شرط کے مطابق، عمرہ ادا کیے بغیر درمیان ہی سے مدینہ کی طرف واپس چلے گئے ۔ قدیم عرب میں "غیر تحریری دستور" یہ تھا کہ کسی کو زیارتِ کعبہ سے روکا نہ جائے۔ مگر قریش اس کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے آپ کو زیارتِ کعبہ سے روکنے پر تل گئے۔ اب ایک طرف صورت دستوری تھی جو آپ کے موافق تھی اور دوسری طرف صورت واقعی تھی جو آپ کے خلاف ہو گئی تھی۔ آپ نے صورتِ دستوری کا کوئی حوالہ نہیں دیا بلکہ صورتِ واقعی کو اصل سمجھتے ہوئے اس کے مطابق عمل فرمایا۔ پیغمبرانہ حکمت حقیقتِ واقعہ کو اپنے موافق بنانا ہے نہ کہ "دستور" کے نام پر بے فائدہ لفظی جنگ لڑنا۔ جس وقت مذکورہ واقعہ پیش آیا اس وقت حرم کعبہ میں ۳۶۰ بت رکھے ہوئے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے رسول اور اصحاب رسول کو یہ حکم نہیں دیا کہ تم توحید کے گھر کو بتوں سے پاک کرنے کے لیے ہر قیمت پر مکہ میں داخل ہو جاؤ۔ اگر اس وقت تم خاموش ہو گئے تو کافروں کے حوصلے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page