Urdu book · قیادت نامه

قرآن وسنت کی رہنمائی

Urdu book, p. 106

By Maulana Wahiduddin Khan

بڑھ جائیں گے۔ اس کے بعد وہ دوسری تمام مسجدوں کو بھی اپنے قبضہ میں لینے کی کوشش کریں گے اور ان کو پتے بتوں سے بھر دیں گے۔ اس نازک موقع پر اس قسم کا " مجاہدانہ" حکم نہ آنا ثابت کرتا ہے کہ اس قسم کی مصلحت اللہ تعالیٰ کی نظر میں غیر معتبر ہے ۔ وہ کوئی حقیقی اور معتبر مصلحت نہیں، اس لیے مسلمانوں کو ایسی مصلحتوں کا لحاظ کرنے کی ضرورت بھی نہیں ۔ مکہ کی طرف مارچ سے روکنے کی حکمت کیا تھی، وہ واضح طور پر قرآن کی ۴۸ ویں سورہ فتح میں بیان کی گئی ہے۔ متعلقہ آیتوں کا ترجمہ یہ ہے : اور اللہ ہی ہے جس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک دیا، مکہ کی وادی میں۔ بعد اس کے کہ تم کو ان پر قابو دیدیا تھا۔ اور اللہ دیکھ رہا تھا جو کچھ تم کر رہے تھے ۔ وہی ہیں جنہوں نے انکار کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی کہ وہ اپنی جگہ تک نہ پہونچیں ۔ اور اگر ایسے مومن مرد اور مومن عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم لاعلمی میں روند ڈالتے، پھر ان کے باعث تم پر بے خبری میں الزام آتا (تو ہم جنگ کی اجازت دیدیتے) تاکہ اللہ جس کو چاہے اپنی رحمت میں داخل کرے ۔ اور اگر وہ لوگ الگ ہو گیے ہوتے تو ان میں جو منکر تھے، ان کو ہم درد ناک سزا دیتے (الفتح ۲۲ - ۲۵) مولانا شبیر احمد عثمانی سورہ فتح کی مذکورہ آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : یعنی ان کی شرارتیں اور تمہارا عفو و تحمل سب کچھ اللہ دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔ کچھ مسلمان مرد و عورت جو کہ میں مظلوم و مقہور تھے اور مسلمان ان کو پوری طرح جانتے نہ تھے، وہ لڑائی میں بے خبری سے پیس دیئے جائیں گے ۔ اگر یہ خطرہ نہ ہوتا تو فی الحال لڑائی کا (اور مکہ میں داخلہ کا) حکم دیدیا جاتا ۔ لیکن ایسا ہوتا تو تم خود (مسلمانوں کی ہلاکت کے اس قومی نقصان پر متأصف ہوتے۔ اس خرابی کے باعث لڑائی (اور مکہ میں داخلہ) موقوف رکھا گیا تاکہ وہ مسلمان محفوظ رہیں اور ستم پر اس بے مثال صبر و تحمل کی بدولت خدا اپنی رحمت نازل فرمائے۔ نیز کافروں میں سے جن لوگوں کا اسلام لانا مقدر ہے، ان کو بھی لڑائی کی خطرناک گڑبڑ سے بچا کر اپنی رحمت میں داخل کرے ۔ صفحه ۶۷ حدیبیہ (۶ھ) کا واقعہ اور اس کے بارے میں قرآن کا مذکورہ ارشاد بتا رہا ہے کہ مسجد حرام میں بتوں کی موجودگی اور اس پر کافروں کے ناجائز قبضہ کے باوجود، اللہ تعالیٰ نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page